پشاور (ہمایون خان) خیبرپختونخوا اور پاکستان ایتھلیٹکس کیلئے ایک اہم اور تاریخی کامیابی اس وقت سامنے آئی جب صوبے کے ابھرتے ہوئے سپرنٹر عطاء اللہ اور ان کے کوچ عابد آفریدی کی ورلڈ انڈر 20 ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں شرکت کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی۔ عالمی سطح کے یہ مقابلے امریکی ریاست اوریگون میں منعقد ہوں گے، جہاں دنیا بھر کے بہترین نوجوان ایتھلیٹس اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔
عطاء اللہ کی ورلڈ انڈر 20 چیمپئن شپ کیلئے سلیکشن کو نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پاکستان ایتھلیٹکس کیلئے بھی ایک بڑا اعزاز قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح کے اس ایونٹ میں شرکت نوجوان کھلاڑیوں کیلئے بین الاقوامی تجربہ حاصل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا بہترین موقع ثابت ہوگی۔
اس موقع پر قومی سطح کے معروف ایتھلیٹکس کوچ عابد آفریدی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی مسلسل محنت، لگن اور کھیل سے وابستہ اداروں کی سرپرستی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عطاء اللہ نے گزشتہ چند برسوں کے دوران ٹریک اینڈ فیلڈ مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس کے باعث انہیں عالمی ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملا۔
عابد آفریدی نے ساؤتھ ایشین ایتھلیٹکس کے صدر جنرل اکرم ساہی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں پاکستان ایتھلیٹکس کو بین الاقوامی سطح پر نئی شناخت ملی ہے اور نوجوان ٹیلنٹ کو آگے بڑھانے کیلئے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مشیر کھیل خیبرپختونخوا تاج محمد ترند اور ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبرپختونخوا تاشفین حیدر کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرٹ پر مبنی سلیکشن کا عمل کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ صوبے کے نوجوان ایتھلیٹس قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ عابد آفریدی نے خیبرپختونخوا ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے صدر ظہیر الاسلام اور سیف الاسلام کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سرپرستی اور تعاون نے صوبے میں ایتھلیٹکس کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
کھیلوں کے حلقوں نے عطاء اللہ کی عالمی چیمپئن شپ میں شرکت کو خیبرپختونخوا کے نوجوان کھلاڑیوں کیلئے حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ عالمی سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بلند کریں گے۔ اس کامیابی کو صوبے میں ایتھلیٹکس کے فروغ اور نوجوان ٹیلنٹ کی صلاحیتوں کے اعتراف کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔