فٹ بال کی عالمی جنگ چھڑنے میں صرف 7 دن باقی
ہمایون خان
پشاور: 11 جون سے شمالی امریکا کے تین ممالک امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں فٹبال میچز کا آغاز ہو رہا ہے۔ شائقین فٹ بال بڑی بے صبری سے میگا ایونٹ کا انتظار کررہے ہیں۔ کیونکہ اس بار مقابلہ صرف سونا جیتنے کا نہیں بلکہ دنیا پر حکمرانی کا ہے۔ اس سنہری اور چمکتی ہوئی واحد سنہری ٹرافی پر قبضہ جمانے کے لیے اس مرتبہ 48 ممالک کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی جس میں دُنیا کے بہترین 1248 کھلاڑی شامل ہیں۔فٹبال کی تاریخ کے سب سے بڑے اور سنسنی خیز معرکا (فیفا ورلڈ کپ 2026) کے آغاز میں اب صرف 7دن باقی رہ گئے ہیں۔ تبدیلیاں اور نئے ریکارڈز فیفا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ٹورنامنٹ میں 32 کے بجائے 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جس کی وجہ سے یہ تاریخ کا طویل ترین اور سب سے بڑا ورلڈ کپ بن چکا ہے۔ فیفا نے تمام ٹیموں کے اسکواڈز کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت ہر ملک کے 26 کھلاڑیوں پر مشتمل مجموعی طور پر 1248 فٹبالرز اپنے ملک کی لاج رکھنے کے لیے میدان میں اتریں گے۔ ورلڈ کی میزبانی 3 ملک کررہے ہیں جس میں امریکا، میکسیکو اور کینیڈا شامل ہیں۔
ورلڈ کپ کا باقاعدہ آغاز 11 جون کو میکسیکو کے تاریخی شہر “ایسٹیکا اسٹیڈیم” سے ہوگا، جہاں افتتاحی میچ میں میزبان میکسیکو کا مقابلہ جنوبی افریقا سے ہوگا۔ اسی دن دوسرا میچ جنوبی کوریا اور چیک جمہوریہ کے درمیان کھیلا جائے گا۔ کینیڈا اپنا پہلا میچ 12 جون کو بوسنیا کے خلاف جبکہ امریکا اپنا پہلا معرکہ پیراگوئے کے خلاف کھیلے گا۔میچز شروع ہونے سے پہلے 10 جون کو لاس اینجلس، ٹورنٹو اور میکسیکو سٹی میں بیک وقت دُنیا کا سب سے بڑا (فیفا کاونٹ ڈان کنسرٹ) منعقد ہوگا، جس میں گریمی ایوارڈ یافتہ فنکار اور دُنیا بھر کے نامور گلوکاروں سمیت فٹبال شائقین اس جشن کا آغاز کریں گے۔ اس ایونٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس بار ازبکستان، اُردن، ہیٹی اور کیپ ورڈی جیسی ٹیمیں پہلی بار فٹبال کے اس سب سے بڑے اسٹیج پر ڈیبیو کر رہی ہیں۔ جبکہ ارجنٹائن، برازیل، فرانس، جرمنی، انگلینڈ اور پرتگال جیسے روایتی سورما اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ شائقینِ فٹبال کی نظریں لیونل میسی، ایمباپے اور دیگر عالمی اسٹارز پر جمی ہیں کہ کون اپنی جادوئی کِک سے اپنی ٹیم کو جیت دے گاے۔ دنیا بھر کی نظریں اب شمالی امریکا پر لگی ہوئی ہیں، جہاں 16 شہروں کے اسٹیڈیمز کو دلہن کی طرح سجا دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات مکمل ہیں اور دنیا بھر سے لاکھوں شائقین نے ان ملکوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ 39 دنوں تک دنیا کے اربوں انسان ٹی وی اسکرینوں اور اسٹیڈیمز میں فٹبال کے سحر میں جکڑے رہیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 19 جولائی کو نیویارک کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہونے والے فائنل میں 1248 کھلاڑیوں اور 48 ملکوں کو شکست دے کر واحد سنہری ٹرافی کون سا ملک اپنے ملک لے کر جاتا ہے؟