خیبر پختونخوا کے فنکار صوبے کی ثقافت اور شناخت کے حقیقی سفیر ہیں، چیئرمین آرٹسٹ ایکشن فاونڈیشن
پشاور (نمائندہ خصوصی) آرٹسٹ ایکشن فانڈیشن کے مرکزی چیئرمین ڈاکٹر نیاز علی خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے فنکار اور ہنرمند صوبے کی ثقافت، روایات اور شناخت کے حقیقی سفیر ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج یہی طبقہ بنیادی سہولیات اور حکومتی مراعات سے محروم ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فنکاروں کیلئے خصوصی ہاوسنگ اسکیم، اینڈومنٹ فنڈ اور فلاحی پیکج کا فوری اعلان کیا جائے تاکہ اس طبقے کو درپیش مشکلات کا ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔ اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر نیاز علی خان نے کہا کہ سال 2023 ء میں منعقدہ ایک اہم پروگرام کے دوران اس وقت کے سابق گورنر حاجی غلام علی کی جانب سے فنکاروں کیلئے ہاسنگ اسکیم لانے کا اعلان کیا گیا تھا جس پر فنکار برادری نے خوشی کا اظہار کیا تھا اور امید کی تھی کہ حکومت اس طبقے کی فلاح کیلئے عملی اقدامات کرے گی تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود اس اعلان پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب خیبر پختونخوا کے فنکار، موسیقار، اداکار، ہنرمند اور ثقافتی شخصیات نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کی پہچان ہوا کرتے تھے۔ ان کے فن اور صلاحیتوں نے خیبر پختونخوا کو دنیا بھر میں متعارف کرایا اور صوبے کے ثقافتی رنگوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں فنکاروں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا لیکن آج وہ معاشی مشکلات، بے روزگاری اور حکومتی عدم توجہی کا شکار ہیں۔ڈاکٹر نیاز علی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مختلف اداروں اور محکموں سے وابستہ ملازمین کیلئے اینڈومنٹ فنڈز، مالی معاونت اور ہاسنگ اسکیموں کی منظوری دی ہے جو خوش آئند اقدام ہے، لیکن فنکار برادری کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر فنکار اور ہنرمند کس جرم کی سزا بھگت رہے ہیں کہ انہیں ان سہولیات اور مراعات سے محروم رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فنکار کسی بھی معاشرے کا نرم چہرہ ہوتے ہیں اور وہ اپنی صلاحیتوں کے ذریعے امن، محبت، ثقافت اور رواداری کا پیغام دیتے ہیں۔ اگر حکومت اس طبقے کی سرپرستی کرے تو نہ صرف فن اور ثقافت کو فروغ ملے گا بلکہ نوجوان نسل کو بھی مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جا سکے گا۔آرٹسٹ ایکشن فانڈیشن کے چیئرمین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فنکاروں کی رجسٹریشن کا جامع نظام متعارف کرایا جائیمستحق فنکاروں کیلئے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے، علاج معالجے کیلئے خصوصی ہیلتھ کارڈ جاری کئے جائیں اور فنکاروں کے بچوں کیلئے تعلیمی وظائف کا بھی اعلان کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں مہنگائی اور بے روزگاری نے فنکار برادری کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ کئی سینئر فنکار معاشی تنگدستی کے باعث شدید پریشانی کا شکار ہیں جبکہ نوجوان ہنرمند بھی مناسب مواقع نہ ملنے کی وجہ سے اپنے فن کو چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو صوبے کی ثقافتی شناخت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ڈاکٹر نیاز علی نے وزیراعلی خیبر پختونخوا، وزیر ثقافت اور متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ فنکار برادری کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور سابقہ اعلانات کو عملی جامہ پہناتے ہوئے فنکاروں کیلئے خصوصی پالیسی مرتب کی جائے تاکہ یہ طبقہ بھی باعزت زندگی گزار سکے۔