سپورٹس رپورٹر ہمایون خان
اسلام آباد: قومی کرکٹ ٹیم کے نئے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ میں چاہتا ہوں پاکستانی کرکٹ ٹیم قوم کا فخر بنے۔انہوں نے ٹیم کے مستقبل کیلئے اپنے کوچنگ فلسفے اور ویژن کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو ایسا بنانا چاہتا ہوں کہ قوم اپنی ٹیم کو بہترین کرکٹ ٹیم کہے۔کھلاڑیوں کا ٹیم میں انتخاب انکے تجربے یا شہرت کی بنیاد پر نہیں کیا جائے گا۔
مائیک ہیسن نے کہا کہ کوچنگ ٹیلنٹ کو نکھارنے کی کوشش کا نام ہے۔اس لیے پہلے کھلاڑی کی کارکردگی کامشاہدہ کرنا ضروری ہے۔
مائیک ہیسن نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ نئے کھلاڑیوں سے ملوں اور ان سے بات چیت کرسکوں۔ یہ عمل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کھلاڑی تربیت یافتہ، ورسٹائل اور قومی فرائض کیلئے بلائے جانے پر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔ کوچ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ قومی ٹیم میں کامیابی کی ایسی بنیاد رکھوں گا جو میرے جانے کے بعد بھی برقرار رہے گی اور مستقبل کے کوچز کیلئے مزید آسانیاں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کوچ کے چلے جانے سے چیزیں خراب ہونا شروع ہوجاتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اچھا کام نہیں کر سکا۔
اُنہوں نے کھلاڑیوں کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار جب آپ کسی کھلاڑی کے سفر کو سمجھ لیتے ہیں تو آپ اس کی اہمیت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
مائیک ہیسن نے مزید کہا کہ تمام کھلاڑی یہ جاننے کے حقدار ہیں کہ ان سے کیا توقع کی جاتی ہے اور اس کے لیے پہلے کھلاڑی کی کارکردگی کا مشاہدہ کرنا ضروری ہے۔
اُنہوں مزید کہا کہ میں نئے کھلاڑیوں سے ملنے اور بات کرنے کا خواہشمند ہوں یہ عمل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کھلاڑی تربیت یافتہ، ورسٹائل اور قومی فرائض کیلیے بلائے جانے پر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔ مائیک ہیسن نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ میں کامیابی کی ایسی بنیاد رکھوں گا جو میرے جانے کے بعد بھی برقرار رہے گی اور مستقبل کے کوچز کیلیے ہموار جانشینی کو یقینی بنائے گی۔
اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی کوچ کے چلے جانے سے چیزیں خراب ہونا شروع ہوجاتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اچھا کام نہیں کر سکا۔