سپورٹس رپورٹر و تصاویر: محمد سلیمان خان
کراچی: کراچی ڈی ایچ اے کریک کلب میں جاری رچ وینس کراچی اسکواش اوپن 2026کے دوسرے راونڈ میں عالمی سطح کے سنسنی خیز مقابلے دیکھنے میں آئے جہاں کئی ٹاپ سیڈ کھلاڑی سخت جدوجہد کے بعد کوارٹر فائنلز میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے تاہم بعض میچز کے اختتام پر ریفری فیصلوں اور نظام کی خامیوں نے کھیل کے انصاف پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دئیے۔ مردوں کے مقابلوں میں ٹاپ سیڈ کریم گاود نے پاکستان کے محمد اشعب عرفان کے خلاف دو گیمز کے خسارے کے بعد شاندار کم بیک کرتے ہوئے 7-11، 9-11، 11-8، 11-5، 11-5 سے کامیابی حاصل کر کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی،

اس مقابلے میں اشعب عرفان نے ابتدائی دو گیمز میں زبردست کھیل پیش کیا مگر بعد ازاں تجربہ کار مصری کھلاڑی نے میچ کا رخ موڑ دیا۔ اسی طرح خواتین کے مقابلوں میں تیسری سیڈ فیروز ابو الخیر نے ہانگ کانگ کی چان سِن یوک کے خلاف پانچ گیمز کے اعصاب شکن مقابلے میں 46 منٹ بعد 13-11 سے کامیابی حاصل کی۔ اس میچ میں فیروز ابو الخیر نے فیصلہ کن گیم میں میچ پوائنٹ بچا کر اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے فتح اپنے نام کی۔ دیگر مردوں کے مقابلوں میں ایئن یو اینگ نے ایکر پجارس کو 3-0 سے شکست دی، محمد ذکریا نے ناصر اقبال کو 3-1 سے ہرایا، الیکس لا نے انجری کا شکار یوسف ابراہیم کو پانچ گیمز میں مات دے کر گولڈ ایونٹ کے کوارٹر فائنل میں پہلی بار رسائی حاصل کی، محمد الشورباگی نے کریم الہمامی کو 3-1 سے شکست دی، علی ابو العینین نے یحییٰ النواسنی کو 3-0 سے ہرایا جبکہ مروان الشورباگی نے توفیق مکحلفی کو سیدھے گیمز میں ہرا دیا۔پاکستان کے لیے سب سے اہم اور توجہ کا مرکز مقابلہ قومی نمبر ایک نور زمان اور عالمی نمبر آٹھ فارس دسوسکی کے درمیان کھیلا گیا، جہاں نور زمان نے 8-11، 9-11 کے خسارے کے بعد شاندار واپسی کرتے ہوئے 11-5، 11-9 سے مقابلہ برابر کیا۔

پانچویں گیم میں نور زمان 7-3 سے آگے تھے کہ اسی دوران فارس دسوسکی اور میچ ریفری کے درمیان بحث ہوئی جس کے بعد کنڈکٹ میچ نور زمان کے حق میں دے دیا گیا۔ اس میچ کے دوران سیفٹی، لیٹ، نو لیٹ اور کورٹ اوپن جیسے فیصلوں پر شائقین اور ماہرین کی جانب سے سوالات اٹھتے دکھائی دئیے، خاص طور پر وہ لمحات جب کھلاڑی کی ٹی لائن پوزیشن واضح تھی اور بال سیفٹی کے پیش نظر چھوڑی گئی۔ ٹورنامنٹ کے ایک اور مقابلے میں کورٹ کنڈیشن کا معاملہ بھی سامنے آیا جب محمد الشورباگی نے کھیل کے دوران کورٹ کے پھسلن زدہ ہونے کی شکایت کی، جس پر میچ ریفری طاہر خانزادہ نے کورٹ کو درست قرار دیتے ہوئے کھیل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، تاہم کھلاڑی کا موقف تھا کہ صفائی کے دوران نمی رہ جانے کے باعث کورٹ کھیل کے لیے خطرناک ہو رہی ہے۔ خواتین کے مقابلوں میں امینہ عرفی نے حیا علی کو 3-0 سے شکست دی، ایرا ازمان نے نور ابوالمکرم کو سیدھے گیمز میں ہرایا، فریدہ محمد نے امینہ الریحانی کو 3-0 سے شکست دی، ندا عباس نے مریم متولی کو پانچ گیمز میں مات دی، عائفہ ازمان نے ناردین گارس کو 3-1 سے ہرایا جبکہ لوسی ٹرمل اور سیواسنگری سبرامنیم نے بھی کوارٹر فائنلز میں جگہ بنائی۔

اسکواش کے عالمی قوانین کے مطابق یہ کھیل مکمل طور پر انصاف اور غیر جانبداری پر مبنی ہے جہاں کھلاڑی کی نیشنلٹی، رینکنگ یا شہرت کو فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے، ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی ایونٹس میں اگر کسی میچ میں کسی ملک کا کھلاڑی شریک ہو تو اسی ملک سے تعلق رکھنے والے ریفری کی تعیناتی سے گریز کیا جانا چاہیے تاکہ کسی قسم کے مفاداتی تصادم کا تاثر بھی پیدا نہ ہو۔

ماہرین کے مطابق ریفری کے تمام اختیارات ایک فرد تک محدود ہونا بھی نظام کی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے اور نیوٹرل ریفری سسٹم، شفاف احتساب اور بہتر میچ مینجمنٹ اب وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں کیونکہ اگر کھلاڑی خود کو غیر محفوظ یا غیر منصفانہ فیصلوں کا شکار محسوس کریں گے تو اس کا نقصان نہ صرف ان کے کیریئر بلکہ عالمی سطح پر اسکواش کے وقار کو بھی پہنچے گا۔