ہمایون خان
چترال: وادی کالاش میں موسم سرما کا سب سے بڑا اور قدیم مذہبی تہوار چوموس اپنے تمام تر روایتی رنگوں کے ساتھ باقاعدہ طور پر اختتام پذیر ہو گیا۔

دو ہفتوں تک جاری رہنے والے اس میلے کے آخری روز کالاش قبائل نے بھرپور جشن منایا اور خصوصی عبادات پیش کیں۔تہوار کی رنگینیاں اور رسومات اس قدیم فیسٹیول کے دوران کالاش وادیوں (بمبوریت، بریر اور رمبور) میں ہر طرف جشن کا سماں رہا۔ تہوار میں اہم سرگرمیاں دیکھنے کو ملیںجس میں روایتی رقص و موسیقی، کالاش مرد و خواتین نے اپنے مخصوص روایتی لباس زیب تن کیے اور ڈھول کی تھاپ پر قدیم رقص پیش کیا۔کالاش عمائدین نے نئے سال کی آمد کی خوشی میں خصوصی دعائیہ تقاریب منعقد کیں اور اپنی قدیم روایات کے مطابق قربانی کی رسم ادا کی۔

وادی کے باسیوں نے ایک دوسرے کو خشک میوہ جات اور روایتی پکوانوں کے تحائف پیش کر کے محبت کا اظہار کیا۔ سخت سردی اور برف باری کے باوجود ملک بھر سے اور بیرون ملک سے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اس منفرد ثقافت کا مشاہدہ کرنے کے لیے چترال پہنچی۔ سیاحوں نے کالاش قبیلے کی مہمان نوازی اور ان کی ہزاروں سال پرانی ثقافت کو بے حد سراہا۔ مقامی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے

تاکہ سیاحوں اور مقامی لوگوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ محکمہ سیاحت نے بھی زائرین کی سہولت کے لیے خصوصی اقدامات کر رکھے تھے۔چوموس فیسٹیول کا اختتام اس دعا اور امید کے ساتھ ہوا کہ نیا سال وادی کے لیے امن، خوشحالی اور سیاحت کے فروغ کا پیغام لے کر آئے گا۔

یہ تہوار نہ صرف کالاش برادری کی شناخت ہے بلکہ پاکستان کے ثقافتی حسن کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔
www:sportslinehd.com