پشاور( سپورٹس رپورٹر)35ویں قومی کھیلوں 2025 کراچی میں شاندار اور تاریخی کارکردگی کے بعد خیبر پختونخوا (کے پی) ٹیک بال ٹیم وطن واپس پہنچی تو پشاور میں ان کا شاندار اور پ ±رجوش استقبال کیا گیا۔ قومی کھیلوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹیک بال کو بطور نمائشی کھیل شامل کیا گیا، جہاں خیبر پختونخوا کی ٹیم نے اپنی بے مثال کارکردگی سے سب کی توجہ حاصل کرلی۔

پاکستان کی تاریخ کی پہلی نیشنل ٹیک بال چیمپئن شپ بھی تھا، جسے انٹرنیشنل ٹیک بال فیڈریشن (FITEQ) کے کیلنڈر ایونٹ کا درجہ حاصل ہوا۔ چیمپئن شپ میں خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی ٹیموں نے سات مختلف کیٹیگریز میں حصہ لیا، جس سے یہ مقابلے ایک حقیقی قومی منظرنامہ بن گئے۔
خیبر پختونخوا کی ٹیم نے ٹورنامنٹ میں مکمل برتری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساتوں کیٹیگریز میں تمام سات گولڈ میڈلز جبکہ مزید دو سلور میڈلز اپنے نام کیے، جو چیمپئن شپ کی تاریخ میں ایک بے مثال کامیابی ہے۔
خیبر پختونخوا کے گولڈ میڈل حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں منعم صدیقی ، جلال الدین ،صفا مروہ، ریبکاشامل ہیں ، جنہوں نے انفرادی ، ڈبلز اور ٹیم ایونٹ میں میڈلز اپنے نام کئے ۔

خیبر پختونخوا ٹیک بال ٹیم کی قیادت کے پی ٹیک بال ایسوسی ایشن کے نائب صدر شفیق احمد نے بطور ٹیم آفیشل کی، جبکہ ٹیم کی شاندار کامیابی میں کوچ اختر رسول کی محنت، مہارت اور رہنمائی نے کلیدی کردار ادا کیا۔
پشاور واپسی پر ٹیم کا استقبال ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اسپورٹس خیبر پختونخوا کے حکام، کے پی ٹیک بال ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور پاکستان میں ٹیک بال کے بانی میاں ابصار علی نے کیا۔ اس موقع پر حکام نے کھلاڑیوں کی لگن اور محنت کو سراہتے ہوئے اس کامیابی کو صوبے میں کھیلوں کی ترقی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

حکام نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس تاریخی چیمپئن شپ کے کامیاب انعقاد اور خیبر پختونخوا کی شاندار کارکردگی سے پاکستان میں ٹیک بال کے فروغ میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ٹیک بال کے بانی ملک ہنگری کے ساتھ پاکستان کے کھیلوں کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ ٹیک بال کو دوستی، یکجہتی اور ثقافتی ہم آہنگی کی عالمی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔