پینتھرز، ڈولفن، شاہین اور اسٹارز کی شاندار کامیابیاں
پشاور (سپورٹس رپورٹر) آر ایم آئی میڈیا کرکٹ لیگ کے دوسرے روز جمخانہ کرکٹ گراؤنڈ پشاور میں چار میچز کھیلے گئے جن میں پی پی سی پینتھرز، ڈولفن، شاہین اور اسٹارز نے اپنے اپنے میچوں میں کامیابی حاصل کی۔ اس موقع پر مہمان خصوصی کمشنر پشاور ریاض محسود نے بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔ ان کے ہمراہ پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، سیکرٹری جنرل طیب عثمان، سینئر صحافی شمیم شاہد، چیئرمین اسپورٹس کمیٹی عرفان موسیٰ زی سمیت دیگر صحافی بھی موجود تھے۔

پہلے میچ میں پی پی سی پینتھرز نے پی پی سی پختونز کو 62 رنز سے شکست دی پینتھرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ایک وکٹ کے نقصان پر 142 رنز بنائے جن میں زاہد امداد کے 58 اور ارسلان ٹکر کے 56 رنز شامل تھے۔ جواب میں پختونز کی ٹیم 80 رنز بنا سکی۔ ذیشان کاکا خیل 26 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ پینتھرز کے تنویر نے دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ زاہد امداد کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔دوسرے میچ میں پی پی سی ڈولفن نے پی پی سی بلز کو 18 رنز سے مات دی ڈولفن نے مقررہ اوورز میں 88 رنز بنائے جن میں عاقب کے 37 اور طیب عثمان کے 17 رنز شامل تھے۔ بلز کی جانب سے حزب اللہ اور ناصر علی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ جواب میں بلز کی ٹیم 70 رنز ہی بنا سکی ناصر خان نے 23 رنز کی اننگز کھیلی، ڈولفن کی جانب سے طیب عثمان اور امیر معاویہ نے دو دو کھلاڑی آؤٹ کیے جبکہ پلیئر آف دی میچ کا اعزاز عاقب کے حصے میں آیا۔تیسرے میچ میں پی پی سی شاہین نے پی پی سی درویش کو 65 رنز سے شکست دی شاہین نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 114 رنز اسکور کیے جن میں عمران یوسفزئی کی شاندار 54 رنز کی اننگز شامل تھی۔ جواب میں درویش کی ٹیم پانچ وکٹوں کے نقصان پر 49 رنز بنا سکی۔ شاہین کے ہاشم خان اور امجد علی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی جبکہ عمران یوسفزئی کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا،

آخری میچ میں پی پی سی اسٹارز نے پی پی سی اسپائڈر کو با آسانی شکست دی۔ اسپائڈر نے پہلے کھیلتے ہوئے 71 رنز اسکور کیے جن میں نوید جان 35 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ جواب میں اسٹارز نے ہدف ساتویں اوور میں تین وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ علی حمزہ نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے تین وکٹیں حاصل کیں اور مین آف دی میچ قرار پائے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ریاض محسود نے کہا کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے اور صحافی برادری پر اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ کام کے دباؤ کے باوجود میڈیا ورکرز کا کھیلوں جیسی سرگرمیوں میں حصہ لینا قابل تحسین ہے کیونکہ موجودہ دور میں جسمانی ورزش اور کھیل کود کے لیے وقت نکالنا نہایت ضروری ہے۔