شکیل الرحمان
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کا پہلا معرکہ آج راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں سجنے جا رہا ہے، مگر اس بار توجہ میدان سے زیادہ ٹیم سلیکشن پر مرکوز ہے۔ کرکٹ حلقوں، سابق کھلاڑیوں اور شائقین کے درمیان قومی اسکواڈ کے انتخاب نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ہر طرف ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ کیا واقعی پاکستان کرکٹ میں میرٹ نام کی کوئی چیز باقی رہ گئی ہے؟پاکستان کرکٹ بورڈ نے وائٹ بال اسکواڈ کا اعلان کیا تو کئی ناموں نے حیران کیا اور کئی غیر موجود ناموں نے شائقین کو غصے میں مبتلا کر دیا۔ شاہین شاہ آفریدی کو کپتان جبکہ سلمان علی آغا کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ اسکواڈ میں عبدالصمد، ابرار احمد، احمد دانیال، عرفات منہاس، بابر اعظم، حارث رف، معاذ صداقت، محمد غازی غوری، نسیم شاہ، روحیل نذیر، صاحبزادہ فرحان، شاداب خان، شامل حسین اور سفیان مقیم شامل ہیں۔لیکن اصل کہانی ان ناموں سے زیادہ ان کھلاڑیوں کی عدم موجودگی ہے جو مسلسل ڈومیسٹک اور لیگ کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھا رہے تھے۔ علی رضا، محمد علی اور حنین شاہ جیسے تیز رفتار اور ردھم میں موجود بولرز کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر ان کھلاڑیوں کی محنت کا صلہ کہاں گیا؟ اگر کارکردگی ہی معیار نہیں تو پھر نوجوان کھلاڑی کس امید پر کرکٹ کھیلیں؟اسی طرح باسط علی اور سلمان مرزا جیسے پرفارمرز کو مسلسل نظر انداز کیا جانا بھی شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ فیصل اکرم جیسے باصلاحیت اسپنر کی عدم شمولیت نے بھی کرکٹ شائقین کو حیران کر دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ اس وقت ایک معیاری آل رانڈر کی شدید کمی کا شکار ہے، مگر اس کے باوجود عماد بٹ، عامر جمال اور فہیم اشرف جیسے تجربہ کار آل رانڈرز کو اسکواڈ کے قریب بھی نہ آنے دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔قومی ٹیم میں ایک خوش آئند خبر روحیل نذیر کی واپسی ضرور ہے۔ پانچ سے چھ برس تک مسلسل انتظار اور نظر انداز کیے جانے کے بعد آخرکار انہیں دوبارہ قومی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ مگر ماضی کے تجربات دیکھتے ہوئے خدشہ یہی ہے کہ کہیں وہ صرف بینچ پر بیٹھنے کے لیے تو نہیں بلائے گئے؟ پاکستان کرکٹ میں اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو شامل تو کیا جاتا ہے، مگر اعتماد اور تسلسل نہیں دیا جاتا۔سب سے زیادہ حیران کن فیصلہ محمد رضوان کو ڈراپ کرنا قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک ایسا کھلاڑی جو گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے لیے مستقل مزاجی سے کارکردگی دکھاتا آیا، اچانک ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔ شائقین اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا فیصلے واقعی سلیکشن کمیٹی کر رہی ہے یا ٹیم صرف کپتان، کوچ اور چند بااثر شخصیات کی مرضی سے بن رہی ہے؟ اگر یہی حقیقت ہے تو پھر بھاری تنخواہیں لینے والے سلیکٹرز اور مینٹورز آخر کس کام کے ہیں؟پاکستان کرکٹ اس وقت نتائج، پالیسیوں اور اعتماد تینوں حوالوں سے بحران کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ ناکامیوں نے پہلے ہی ٹیم کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، مگر اس کے باوجود بورڈ میں نہ کوئی احتساب نظر آیا اور نہ اصلاحات۔ ہر ناکامی کے بعد عوام کو خوشنما بیانات، مصنوعی امیدوں اور پی آر مہمات کے ذریعے مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میدان میں شکست کے بعد اصل میچ سوشل میڈیا اور ٹی وی اسکرینوں پر جیتنے کی کوشش کی جاتی ہے۔پاکستانی شائقین اب صرف جیت نہیں چاہتے، وہ انصاف چاہتے ہیں۔ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ قومی ٹیم میں جگہ تعلقات، سفارش یا پسند ناپسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف کارکردگی کی بنیاد پر ملے۔ کیونکہ جب میرٹ دفن ہو جائے تو پھر صرف ٹیم نہیں، پورا نظام تباہ ہو جاتا ہے۔پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوسرا اور تیسرا ون ڈے میچ دو اور چار جون کو لاہور میں کھیلا جائے گا، مگر اس سیریز کا سب سے بڑا سوال شاید یہی رہے گا کہ کیا پاکستان کرکٹ واقعی درست سمت میں جا رہی ہے یا پھر یہ سفر مزید اندھیروں کی طرف بڑھ رہا ہے
دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک 112 ایک روزہ میچ کھیلے جا چکے ہیں جن میں آسٹریلیا نے 70 جبکہ پاکستان نے ا38 میچ جیتے، چار مقابلے بے نتیجہ رہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے 2022 اور 2024 کی دوطرفہ سیریز دو، ایک سے اپنے نام کی تھیں۔پاکستا کا آسٹریلیا کے خلاف بہترین مجموعہ چار وکٹ پر 349رنز ہے جو کہ پاکستان نے 31مارچ 2022کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں سکور کیا تھا۔آسٹریلیا کا پاکستان کے خلاف بہترین مجموعہ سات وکٹ پر 369رنز 26جنوری 2017کو ایڈیلیڈ کے مقام پر سکور ہوئے تھے۔ایک میچ کا سب سے کم سکور میں بھی پاکستان کا ہی ریکارڈ ہے پوری پاکستانی ٹیم 30اگست 2002کو نیروبی کے مقام پر 108رنز آوٹ ہوئی تھی اور میچ ہار گئی تھی۔آسٹریلیا کا پاکستان کے خلاف کم ترین مجموعہ 120رنز ہے جب ساتھ جنوری 1997کو ہوبرٹ کے مقام پر پوری آسٹریلوی ٹیم آوٹ ہوئی تھی اور میچ ہار گئی تھی۔بیٹنگ کے شعبے میںآسٹریلیا کی جانب سے رکی پونٹنگ نے پاکستان کے خلاف1100سے زائد رنز بنائیدوسرے نمبر پر جاوید میانداد نے 35میچوں میں 1019رنز بنائے۔تیسرے نمبر پر محمد یوسف نے 1016رنز ار سٹیو واہ نے 43میچوں میں1003رنز سکور کئے۔ بابر اعظم آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کے کامیاب ترین موجودہ بلے باز ہیں جنہوں نے تیرہ میچوں میں 68.60کی اوسط سے 686رنز بنائے۔ جس میں تینسنچریاں شامل ہیں۔ جبکہ ڈیوڈ وارنر اور اسٹیون اسمتھ بھی کئی یادگار اننگز کھیل چکے ہیں۔گزشتہ ویک روزہ میچوں میں آسٹریلی کی جانب سے بہترین اننگ ڈیوڈ وارنر نے کھیلی جنہوں نے 26جنوری 2017کو ایڈیلیڈ کے مقام پر 179رنز کی دلکش اننگزکھیلی۔دوسرے نمبر پر بھی ڈیوڈ وارنر نے 20اکتوبر 2023کو بنگلورو کے مقام پر 163رنز بنائے تھے۔پاکستان کی جانب سے بہترین اننگز حارث سہیل نے 31مارچ 2019کو دبئی کے مقام پر 130رنز سکور کئے تھے۔دونوں ممالک کے درمیان ایک روزہ میچوں سیریز میں باولنگ میں وسیم اکرم کامیاب ترین بالر رہے جنہوں نے 67 وکٹیں حاصل کیں۔بہترین بولنگ 21رنز دیکر پانچ وکٹیں رہی۔دوسرے نمبر پر آسٹریلیا کی جانب سے گلین میک گرا نے پاکستان کے خلاف57 وکٹیں حاصل کیںاور انکی بہترین بولنگ 27رنز دیکر پانچ وکٹیں تھی۔تیسرے نمبر پر شاہد خان آفریدی ہے جہوں نے 43میچوں میں 49آسٹریلین کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔بہترین بولنگ 37رنز دیکر چھ وکٹیں رہی۔بریٹ لی نے 38جبکہ شین وارن نے 37کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔شعیب اختر نے 32اور وقار یونس نے آسٹریلیا کے خلاف29کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔اور متعدد کامیابیاں دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جبکہ بریٹ لی اور مچل اسٹارک نے اپنی تیز رفتار بالنگ سے پاکستانی بیٹنگ لائن کو کئی بار مشکلات سے دوچار کیا۔پاکستانی ٹیم حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں آسٹریلیا کو تین، صفر سے شکست دینے کے بعد بھرپور اعتماد کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ دوسری جانب آسٹریلیا کو چند اہم فاسٹ بالرز کی عدم دستیابی کا سامنا ہو سکتا ہے جس سے پاکستان کے امکانات مزید روشن ہو گئے ہیں۔یہ سیریز دونوں ٹیموں کے لیے آئندہ عالمی مقابلوں کی تیاری کے حوالے سے بھی انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔