تحریر: شکیل الرحمان
یہ سفر محض ایک اسپورٹس ایونٹ کی کوریج نہیں تھا، بلکہ زندگی کے ان انمول لمحوں کو سمیٹنے کا موقع تھا جو ہمیشہ یادوں کے افق پر روشن رہتے ہیں۔ اے ایف سی خواتین ایشین کپ کے سلسلے میں آسٹریلیا روانگی سے قبل حالات نے اچانک کروٹ لی۔ اسرائیل امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے باعث ہماری پرواز براستہ دوہا قطر منسوخ ہو گئی، مگر حوصلہ اور جذبہ قائم رہا۔بالآخر 2 مارچ 2026ء کو ہم نے نئی امید کے ساتھ سفر کا آغاز کیا۔ اس سفر کی سب سے خوبصورت بات میرے قریبی ہم سفر آصف شہزاد کی رفاقت تھی۔ ہم اسلام آبادسے بذریعہ ہانگ کانگ سڈنی کے لئے روانہ ہوئے اور 3 مارچ کی صبح گیارہ بجے اس خوابوں کے شہر سڈنی میں قدم رکھا۔ طویل سفر کے باوجود ہمارے چہروں پر نئی دنیا دیکھنے کا جوش نمایاں تھا۔

سڈنی پہلی جھلک، پہلا تاثر۔
سڈنی پہنچنے پردیرینہ ساتھی دوست آصف ڈار نے جس گرمجوشی سے استقبال کیا، وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔ اصف ڈار کے ساتھ تعلق تیس سالہ پرانہ ہے 2000میں ہم دونوں نے پاک انڈیا پیپلز فورم کے بینر تلے بھارت کا بیس دن کا دورہ کیا تھا جو کافی یادگار رہا تھا اس دورے میں ھمسفر ساتھیوں کا خلوص ابھی تک دل میں موجود ہے۔بھارت کے 26سال پرانے دورے کے بارے میں بھی آصف ڈار نے ان واقعات کا ذکر بھی کیا کہ کسطرح ہم اٹاری ٹرین کے ذریعے دہلی پہنچے۔پھر وہاں سے بنگلور،میسور،گووا،بمبئی جو اب مومبئی کے نام سے مشہور ہے پھر احمدآباد سے ہوکر دہلی پہنچے اور پاکستان آنے سے پہلے ہم نے آگرہ میں تاریخی تاج محل اور اکبر بادشاہ کے محل کی سیر کی۔سڈنی ایر پورٹ سے ہم اوبرن آئے جہاںآصف ڈار نے نہ صرف رہائش کا بہترین انتظام کیا تھا بلکہ مہمان نوازی کی اعلی مثال قائم کرتے ہوئے ہر ممکن سہولت فراہم کی۔

رمضان المبارک کے باعث کمرے میں کھانے پینے کی اشیا سے لے کر ہر ضرورت کا خیال رکھا گیا۔ ان کی یہ محبت اور خلوص اس سفر کو مزید یادگار بنا گئے۔سفر کی سب سے درخشاں اور دل کو چھو لینے والی شخصیت اگر کوئی تھی تو وہ آصف ڈار تھے۔ پردیس میں ان کی محبت، خلوص اور بے لوث مہمان نوازی نے اس سفر کو صرف آسان ہی نہیں بلکہ ناقابلِ فراموش بنا دیا۔انہوں نے جس انداز میں استقبال کیا، وہ محض ایک رسمی خوش آمدید نہیں تھا بلکہ دل سے نکلنے والی اپنائیت کا اظہار تھا۔ رہائش سے لے کر خوراک تک، ہر چھوٹی بڑی ضرورت کا خیال اس باریکی سے رکھا گیا کہ کہیں اجنبیت کا احساس تک نہ ہو سکا۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں جس طرح انہوں نے سحر و افطار کا مکمل انتظام کیا، وہ ان کی سوچ، محبت اور مہمان کے احترام کا واضح ثبوت تھا۔آصف ڈار کی سب سے بڑی خوبی ان کا اعتماد اور کشادہ دلی ہے۔

بنک کارڈ تک دینا صرف سہولت فراہم کرنا نہیں بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنے مہمان کو اپنے دل کے قریب رکھتے ہیں۔ مگر اس سے بھی بڑھ کر ان کی عاجزی اور انکساری ہے انہوں نے احسان جتائے بغیر خدمت کی، اور یہی عمل انسان کو بڑا بناتا ہے۔وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو فاصلے مٹا دیتے ہیں، جو پردیس کو بھی وطن جیسا محسوس کرا دیتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں خلوص کی وہ روشنی ہے جو نہ صرف دلوں کو جیت لیتی ہے بلکہ ہمیشہ یادوں میں زندہ رہتی ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر یہ سفر یادگار بنا تو اس میں آصف ڈار کی محبت، توجہ اور بے مثال مہمان نوازی کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ایسے لوگ واقعی کسی بھی معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگلے روز آصف ڈار نے ٹرین کے کارڈ بھی دیے ۔آصف شہزاد اور شاہ زیب نے آصف ڈار کی طرف سے کی گئی افطاری میں شرکت کی اور افطاری کے بعد دونوں شاہزیب کی رہایش سینٹ میری چلے گئے اور میں اپنے کمرے میں آگیا۔

آصف ڈار نے میرے لیے فون بمعہ سم کارڈبھی دے دیا تاکہ باہر جاتے ہوئے رابطہ میںرہے۔ آصف ڈار اپنے گھر چلے گئے جہاں وہ اپنی اہلیہ دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے ہمراہ رہ رہے ہے۔اگلے دن آصف شہزاد سے رابطہ کیا کہ اولمپک پارک اسٹیڈیم پہنچے تاکہ اپنی ایکریڈیشن کارڈ حاصل کرسکے۔دونوں وہاں ملے اورمیڈیاسنٹر سے اپنے کارڈز حاصل کیے کارڈز کی خاص بات یہ تھی کہ ہماری ٹرانسپورٹ ٹرین اور بس کی سہولت مفت میںمہیا تھی۔اسی اولمپک اسٹیڈیم میں افتتاحی تقریب بھی تھی افتتاحی میچ کے لیے ریکارڈ تماشائی آیے تھے۔جو ایک مختلف نظارہ پیش کررہاتھا۔Accor Stadium میں واقع Sydney Olympic Parkیہ اسٹیڈیم صرف کنکریٹ کا ڈھانچہ نہیں بلکہ عالمی تاریخ کا ایک زندہ استعارہ ہے۔
۔ 2000 اولمپکس کی بازگشت آج بھی اس کی فضا میں سنائی دیتی ہے۔ تقریبا 82 ہزار شائقین کی گنجائش رکھنے والا یہ اسٹیڈیم جدید فنِ تعمیر کا شاہکار ہے۔2000اولمپکس کے قصے دیرینہ ساتھی امجد عزیز ملک سے سنے تھے جو ان گیمز کی کوریج کے لئے 2000میں سڈنی گئے تھے۔اور اسی سڈنی اولمپک پارک سے اپنے ادارے کے لئے کوریج کی تھی۔ اے ایف سی خواتین ایشین کپ کے افتتاحی میچ کے دوران جب تماشائیوں کا ہجوم امڈ آیا، تو یوں محسوس ہوا جیسے جذبات کا ایک سمندر موجزن ہو۔ ہر نعرہ، ہر تالی ایک نئی کہانی سنا رہی تھی۔ یہاں بیٹھ کر کھیل دیکھنا دراصل تاریخ کو جینے کے مترادف ہے۔اے ایف سی کے سڈنی میں کھیلے گئے تمام میچ سڈنی اسٹیڈیم پیرامٹہ اور اولمپک پارک اسٹیڈیم میں ڈیلی کسوٹی کے ساتھ ڈیلی ٹائمز اور دی پراونس کے لیے کوریج کی اوران تینوں اخبارات نے اس ایشیا کپ 2026کے میچوں کے لیے نمایاں جگہ دی
جس کے لئے میں اپنے دیرینہ ساتھی امجد عزیز ملک اور فضل حق کا نہایت مشکور ہوں۔آسٹریلین پشتون ایسوسی ایشن پردیس میں اپنی مٹی کی خوشبوعید

سے ایک دن بعد گرین ول میں آسٹریلین پشتون ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام عیدالفطر کی تقریب ایک یادگار ثقافتی منظر پیش کر رہی تھی۔جس کے لئے مجھے شازیب خان نے خسوصی طور پر مدعو کیا تھا۔روایتی لباس، خوشبو دار پکوان، موسیقی کی دھنیں اور بچوں کی چہل پہلہر منظر دل کو چھو لینے والا تھا۔یہاں پر سپیشل پرسن پست قد اداکار ارشد خان سے بھی ملاقات ہوئی۔روایتی رقص (اتن (کی محفل نے سماں باندھ دیا۔ ڈھول کی تھاپ پر نوجوانوں کا جوش دیدنی تھا۔ یہ تقریب صرف ایک تہوار نہیں بلکہ اپنی شناخت کو زندہ رکھنے کی ایک خوبصورت کاوش تھی، جہاں پردیس میں بھی وطن کی خوشبو محسوس ہو رہی تھی۔یادوں کا زندہ استعارہSydney Cricket Ground سڈنی کرکٹ گراونڈ میں داخل ہوتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے کرکٹ کی تاریخ سانس لے رہی ہو۔1980 کی دہائی کی وہ یادیں تازہ ہوگئیں جب ہم ریڈیو پر اس میدان کا نام سنتے تھے اور آج خود اسی تاریخی مقام پر موجود ہونا ایک خواب کی تعبیر تھا۔

سڈنی کرکٹ گراونڈ دنیا کے قدیم اور تاریخی کرکٹ میدانوں میں سے ایک ہے، جس کی تاریخ تقریبا 150سالہ پرانی ہے۔ یہ میدان نہ صرف کرکٹ بلکہ دیگر کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے بھی مشہور رہا ہے۔ابتدائی تاریخ سڈنی کرکٹ گراونڈکی بنیاد 1848ء کے قریب رکھی گئی، جب برطانوی فوجیوں نے اس جگہ کو صاف کر کے کرکٹ کھیلنے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ 1851ء میں کرنل ہنری بلوم فیلڈ نے اس زمین کو باقاعدہ کرکٹ گراونڈ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت حاصل کی، اور یوں یہ جگہ ایک مستقل اسپورٹس گراونڈ میں تبدیل ہو گئی۔ سڈنی کرکٹ گراونڈ پرباقاعدہ کرکٹ کا آغاز1870ء کی دہائی میں جب برطانوی فوج واپس آ گئی تو گراونڈ کا کنٹرول مقامی اداروں کے پاس آ گیا۔ 1875ء میں اسے نیو ساتھ ویلز کرکٹ ایسوسی ایشن نے سنبھالا، اور 1877ء میں یہاں پہلا باضابطہ میچ کھیلا گیا۔ 1882ء کو اس گراونڈ پر ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز ہوا، اور آج تک یہاں 100 سے زائد ٹیسٹ میچز کھیلے جا چکے ہیں۔ یہ میدان خاص طور پر ہر سال جنوری میں نیو ایئر ٹیسٹ کے لیے مشہور ہے۔
تھری سسٹرز فطرت کی خاموش داستان بلیو مانٹنز کا ایک ایسا شاہکار ہے جہاں فطرت اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہے۔یہ تین بلند چٹانیں صرف ایک منظر نہیں بلکہ ایک داستان ہیںجو صدیوں سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی آ رہی ہے۔.تھری سسٹرز کی تشکیل تقریبا 200 سے 250 ملین سال پہلے ہوئی، جب یہ پورا علاقہ سمندر کے نیچے تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ سمندری ریت اور مٹی جمع ہو کر ریتلے پتھر بن گئے پھر لاکھوں سال میں ہوا، بارش اور دریا نے ان چٹانوں کو کاٹ کر یہ منفرد تین ستون نما شکل بنا دی یہ تین چٹانیں تقریبا 900 میٹر اونچی ہیں اور جیمیسن ویلی کے اوپر کھڑی ہیں۔ وولوگانگ سکون کا ساحلی شہروولوگانگ کے سفرکے لئے جہانزیب صدیق خصوصی طور پر لوفٹس سٹریٹ تیمورا سے آئے اور مجھے اور آصف شہزاد کو وولوگانگ کی سیر پر لے گئے جو کہ سڈنی سے تقریبا اڑھائی گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

وولوگانگ میں سمندر اور پہاڑ کا حسین ملاپ انسان کو ایک نئی دنیا میں لے جاتا ہے۔یہاں کی خاموش فضا، ساحل کی لہریں اور ڈوبتا سورج ایک جادوئی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔کیاما قدرت کا حیرت انگیز مظہرKiama Blowhole کیاما قدرت کا ایک ایسا کرشمہ ہے جو دیکھنے والوں کو حیران کر دیتا ہے۔جب سمندر کی لہریں چٹانوں سے ٹکرا کر بلند ہوتی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے پانی آسمان سے باتیں کر رہا ہو۔بلیک ٹاون اور اوبرن ثقافتوں کا سنگماوبرن اور بلیک ٹاون وہ علاقے ہیں جہاں مختلف ثقافتیں ایک ساتھ سانس لیتی ہیں۔یہاں پاکستانی، افغانی اور دیگر کمیونٹیز کی موجودگی ایک خوبصورت ہم آہنگی پیش کرتی ہے۔ بازاروں کی رونق اور کھانوں کی خوشبو دل کو اپنائیت کا احساس دلاتی ہے۔ایک مکمل داستان یادوں کا خزانہ یہ سفر کھیل، ثقافت، فطرت اور دوستی کا حسین امتزاج ثابت ہوا۔سڈنی کی روشنیاں، Sydney Olympic Park کی گونج، ثقافتی تقریبات کی مہک اور فطرت کے دلکش نظارییہ سب اب زندگی کے انمول خزانے کا حصہ ہیں۔یہ سفر ایک سبق بھی دے گیا:دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں، اصل خوبصورتی جگہوں میں نہیں بلکہ لوگوں، ثقافتوں اور یادوں میں ہوتی ہے۔