رپورٹ:غنی الرحمن
ملک میں کھیلوں کے بحران، انتظامی انتشار اور طویل عرصے سے التواء کا شکار انتخابات کے پس منظر میں اگر کسی کھیل کے حوالے سے اچھی اور امید افزا خبر سامنے آئے تو یہ صرف ایک تنظیمی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نئے آغاز کی نوید ہوتی ہے۔ پاکستان بھر سمیت خیبرپختونخوا میں تائیکوانڈو سے وابستہ کھلاڑیوں، کوچز اور کلبوں کے لیے حالیہ دنوں میں آنے والی خبریں یقیناً حوصلہ افزا ہیں، جہاں ایک طرف پاکستان تائیکوانڈو فیڈریشن میں نئی قیادت سامنے آئی ہے تو دوسری جانب صوبائی سطح پر انتخابات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ تاہم خوشی کے اس ماحول میں چند سنجیدہ آئینی اور تنظیمی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں، جن کا جواب دینا ناگزیر ہے۔
پاکستان تائیکوانڈو فیڈریشن (پی ٹی ایف) نے جنرل کونسل کے اجلاس میں کرنل نبیل احمد رانا کو متفقہ طور پر فیڈریشن کا نیا صدر جبکہ ناجیہ رسول کو جنرل سیکرٹری منتخب کر لیا ہے۔ اس اجلاس میں سیکریٹری آرمی فٹنس اینڈ اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ کرنل نبیل احمد رانا بلامقابلہ صدر منتخب ہوئے، جسے پاکستان میں تائیکوانڈو کے نظم و نسق کے لیے ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کرنل نبیل احمد رانا کھیلوں کے انتظامی امور میں مضبوط کمانڈ، مؤثر مینجمنٹ اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت سے توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان تائیکوانڈو فیڈریشن نہ صرف انتظامی استحکام کی جانب بڑھے گی بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے تائیکوانڈو کو نئی شناخت ملے گی۔کہ
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب صدر نے جنرل کونسل کے اراکین کا اعتماد حاصل کرنے پر شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مکمل وژن اور لگن کے ساتھ پاکستان تائیکوانڈو کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ انہوں نے کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود، گراس روٹ سطح پر کھیل کے فروغ، کوچز اور آفیشلز کی استعداد کار میں اضافہ اور بین الاقوامی مواقع فراہم کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل لیفٹیننٹ کرنل (ر) راجہ وسیم احمد نے پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے اسپورٹس پالیسی کی خلاف ورزی پر جاری کی گئی حتمی وارننگ کے بعد صدر کے عہدے سے علیحدگی اختیار کی تھی، جس کے بعد فیڈریشن میں قیادت کی تبدیلی ناگزیر ہو چکی تھی۔
دوسری جانب ایک اور خوش آئند خبر یہ ہے کہ خیبرپختونخوا تائیکوانڈو ایسوسی ایشن کے انتخابات 11 جنوری کو پشاور میں منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ ان انتخابات کے لیے تائیکوانڈو سے وابستہ متعدد شخصیات مختلف عہدوں کے لیے میدان میں آ چکی ہیں اور باقاعدہ رابطہ مہم بھی شروع ہو گئی ہے۔
تاہم یہاں ایک بنیادی اور آئینی سوال بھی سامنے آ رہا ہے کہ ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق کس کو حاصل ہوگا؟ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ صوبائی ایسوسی ایشن کے انتخابات سے قبل ضلعی اور ڈویژنل سطح پر ایسوسی ایشنز کے انتخابات کا انعقاد ہونا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ ووٹنگ باڈی کا وجود انہی یونٹس سے مشروط ہوتا ہے۔ اگر صوبے میں طویل عرصے سے ضلعی اور ڈویژنل انتخابات نہیں ہوئے تو موجودہ الیکٹورل کالج کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔
کھیلوں سے وابستہ حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر انتخابات شفاف، آئینی اور اسپورٹس پالیسی کے مطابق منعقد نہ کیے گئے تو اس کے نتائج وقتی تو ہو سکتے ہیں، مگر طویل المدت استحکام ممکن نہیں ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ خیبرپختونخوا تائیکوانڈو ایسوسی ایشن کے انتخابات سے قبل تمام آئینی تقاضوں کو پورا کیا جائے تاکہ نئی قیادت حقیقی معنوں میں کھلاڑیوں کی نمائندہ اور کھیل کی ترقی کی ضامن بن سکے۔
بلاشبہ پاکستان تائیکوانڈو فیڈریشن میں نئی قیادت کا قیام ایک امید کی کرن ہے، اب یہ قیادت اور صوبائی سطح کے منتظمین پر منحصر ہے کہ وہ اس اعتماد کو شفافیت، انصاف اور ادارہ جاتی مضبوطی میں کیسے ڈھالتے