سپورٹس رپورٹر
پشاور: طلبہ کی ذہنی اورجسمانی تندرستی کے لئے کھیل کود بہت ضروری ہیں۔ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں تعلیم کے ساتھ ساتھ سپورٹس کا فروغ بھی شامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار خالد خان سیکرٹری ایجوکیشن نے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں کے صوبائی کھیلوں کے تقسیم انعامات کی تقریب سے گذشتہ روز خطاب کرتے ہوئے کہا۔ اس موقع پر صوبہ بھر سے کثیر تعداد میں پرنسپلز، ہیڈ ماسٹرز، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت سکول آفیسرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر سمیع اللہ خلیل نے کی جبکہ تقریب میں سابق چیئرمین ایبٹ آباد بورڈ جہانداد خان نے بھی شرکت کی۔

ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبر پختونخوا کی ان مقابلوں کی نگرانی ایڈیشنل ڈائریکٹر سپورٹس نگہت اللہ وزیر نے کی جبکہ صوبائی سپورٹس مقابلوں کے جنرل سیکرٹری کے فرائض نوید اختر پرنسپل گورنمنٹ ہائی سکول نانک پورہ پشاور، ڈپٹی جنرل سیکرٹری خورشید اقبال تھے ان مقابلوں کے منیجرز میں چیئرمین سپورٹس کمیٹی صوبائی صدر فزیکل ایجوکیشن آفیسرز ایسوسی ایشن کلیم خان محسود، آصف خان آفریدی، محمد الیاس آفریدی، سجاد خان چمکنی، ظہور احمد، ہمایون خان اور محمد یونس شامل ہیں۔ گذشتہ سال کی نسبت امسال ان صوبائی مقابلوں میں صوبہ بھر سے تقریبا 4ہزار کے قریب طلبہ نے مختلف کھیلوں میں لیا۔ صوبائی مقابلوں میں کرکٹ، فٹ بال، ہاکی، والی بال، باسکٹ بال، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، سکواش، نٹ بال، کبڈی، رسہ کشی، تائیکوانڈو، فٹسال، جمناسٹک، رائفل ڈرل، پی ٹی شو، اتھلیٹکس کے تمام ایونٹس اور ادبیات کے مقابلے شامل ہیں۔ ایلیمنٹری ایجوکیشن خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام انڈر 18کی سطح پر منعقد ہونے والے ان مقابلوں میں پہلے مرحلے پراضلاع کی سطح پر مقابلے ہوئے جس کے بعد ڈویژن کی سطح پر مقابلے منعقد کئے گئے، ڈویژن میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں نے صوبائی مقابلوں کے لئے کوالیفائی کیا۔ کرکٹ کے فائنل میں نمبر3مانسہرہ اور اشکر کوٹ ساتھ وزیرستان کے درمیان انتہائی سنسنی خیز مقابلہ ہوا جس میں سکور اور وکٹس برابر ہونے پر مزید 5، 5 اوورز دیئے گئے لیکن دونوں ٹیموں کے سکور پوائنٹس برابر رہنے موسم کی خرابی اور اندھیرا ہونے کی وجہ سے سکور پوائنٹس کی برابری پر دونوں ٹیموں کو صوبائی ونر قرار دیا گیا۔

فٹ بال میں چترال ماڈل سکول اینڈ کالج نے پہلی جبکہ نمبر1 جمرود ضلع خیبر نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ ہاکی میں نمبر2بنوں نے پہلی جبکہ چمکنی نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ والی بال میں امندی عمر خان بنوں نے پہلی جبکہ کوٹکہ حبیب اللہ نے دوسری، باسکٹ بال میں بالاکوٹ مانسہرہ نے پہلی جبکہ زیارت تالاش دیر لوئر نے دوسری، بیڈمنٹن میں عادل پبلک سکول بنوں نے پہلی جبکہ سخاکوٹ ملاکنڈ نے دوسری، ٹیبل ٹینس میں المدینہ پبلک سکول سوات نے پہلی جبکہ حیات آباد نے دوسری، ہینڈ بال میں ثمر باغ دیر لوئر نے پہلی جبکہ مایار مردان نے دوسری، رسہ کشی میں نمبر1تنگی چارسدہ نے پہلی جبکہ سرائے نورنگ لکی مروت نے دوسری پوزیشن، کبڈی میں غوری والا بنوں نے پہلی جبکہ بچ خان لکی مروت نے دوسری پوزیشن، تائیکوانڈو میں نمبر3 ڈی آئی خان نے پہلی جبکہ نمبر1 جمرود نے دوسری، فٹسال میں کوشت چترال نے پہلی جبکہ حرا سکول مامش خیل بنوں نے دوسری، سکواش میں نودیہہ پایان پشاور نے پہلی جبکہ نمبر1 جمرود نے دوسری، نٹ بال میں توغ بالا کوہاٹ نے پہلی اور نمبر1 جمرود نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ علاوہ ازیں صوبائی سپورٹس مقابلوں میں ایتھلیٹکس کے مقابلے بھی ہوئے جس میں 100 میٹر دوڑ میں محمد عمر شیر پا چارسدہ نے پہلی، امجد خان کندی تازہ دین نوشہرہ نے دوسری جبکہ عبدالباسط مندنی چارسدہ نے تیسری، 200 میٹر دوڑ میں محمد سلمان شیرپاو چارسدہ نے پہلی جبکہ عبدالباسط مندنی چارسدہ اور ارشد خان کمپرہنسیو کوہاٹ نے دوسری، سدیس خان کندی تازہ نوشہرہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ 400 میٹر دوڑ میں محمد عمر شیرپاو چارسدہ نے پہلی، مبین علی سلیم خان صوابی نے دوسری، ارشد خان کمپرہنسیو کوہاٹ نے تیسری، 800 میٹر دوڑ میں علی خان غنی ڈھیری ملاکنڈ نے پہلی، سمیع اللہ حرا سکول بنوں نے دوسری، محمد آصف عالم گودر باڑہ خیبر نے تیسری، 1500 میٹر دوڑ میں محمد عثمان ڈھکی چارسدہ نے پہلی، محمد حرا سکول بنوں نے دوسری، عصمت اللہ جلوزئی نوشہرہ نے تیسری، ٹیم ایونٹ کے ریلے مقابلوں کے 4100 میٹر دوڑ میں شیرپاو چارسدہ نے پہلی، غنی ڈھیری ملاکنڈ دوسری، کندی تازہ دین نوشہرہ نے تیسری، 4400 میٹر ریلے ریس میں شیرپاو چارسدہ نے پہلی، سور کمر چارسدہ نے دوسری، سخا کوٹ ملاکنڈ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اتھیلیٹکس کے فیلڈ ایونٹ کے گولہ تھرو مقابلوں میں سنان خان مندنی چارسدہ نے پہلی، سدیس احمد ڈھیرئی سوات نے دوسری، محمد سدیس ٹھنڈ کوئی صوابی نے تیسری، ڈسکس تھرو میں سنان خان مندنی چارسدہ نے پہلی، یاسر خان سپین ڈھنڈ باڑہ خیبر نے دوسری، عماد علی خادی کلے مردان نے تیسری، نیزہ تھرو میں کلیم اللہ ترناب چارسدہ نے پہلی، سید ظاہر حسین استرزئی کوہاٹ نے دوسری، عزیز گل کلابٹ صوابی نے تیسری، لانگ جمپ کے مقابلے میں رضوان لوئر دیر نے پہلی، حفیظ شکیل ایس این کے ہری پور نے دوسری، حسان احمد شین ڈھنڈ کوہاٹ نے تیسری، ٹرپل جمپ میں مبین علی سلیم خان صوابی نے پہلی، محمد یونس حاجی زئی چارسدہ نے دوسری، حضرت بلال ہریانہ پشاور نے تیسری، ہائی جمپ میں حسنین کمبر لوئر دیر نے پہلی، شاہ زیب شہباز گڑھی مردان نے دوسری، مدثر خان ماما خیل نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔صوبائی سپورٹس ٹورنامنٹ میں ادبیات کے مقابلے بھی ہوئے جس میں حسن قرات، حمد باری تعالی، نعت شریف، آذان، اردو اور انگریزی تقاریر، اردو اور انگریزی مضمون نویسی، اردو اور انگریزی قصہ نویسی، پوسٹ سازی، سپیلنگ بیز، ٹیبلو، کوئز، بیت بازی، خاکہ، قومی ترانہ اور ملی نغمہ کے منفرد اور دلچسپ مقابلے بھی ہوئے جس میں صوبہ بھر سے آئے ہوئے طلبہ نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔

مانسہرہ رائفل ڈرل کے اور پی ٹی کے دستوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ڈی آئی خان سے آئی ہوئی تائیکوانڈو کی ٹیم نے مارشل آرٹ کے بہترین سٹائل دکھائے۔قبل ازیں صوبائی جنرل سیکرٹری سپورٹس نوید اختر نے سپاس نامہ پیش کیا اور سیکرٹری ایجوکیشن خالد خان کی توجہ سرکاری سکولوں میں ناپید ہونے والی سپورٹس سرگرمیوں کی جانب مبذول کروائی۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی طرف سے جاری کردہ 15 کروڑ کی خطیر رقم کی سرکاری سکولوں کو منتقل نہ کرنے کی نشاندہی بھی کی۔ اس موقع پر سیکرٹری ایجوکیشن ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری خیبر پختونخوا خالد خان نے سپورٹس کمیٹی کو یقین دلایا کہ وہ اضلاع کی سطح پر ڈپٹی کمشنر ز کو ہدایات جاری کریں گے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے دی گئی رقوم سکولوں کو فوری منتقل کی جائے۔ اس موقع پر سیکرٹری ایجوکیشن نے کہا کہ سکولوں میں سپورٹس کی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے گا۔ سکول کے یہی بچے آگے چل کر قومی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہیں صوبائی حکومت کی دلچسپی ہے کہ پرائمری سے لیکر سیکنڈری لیول تک باقاعدگی سے مقابلے منعقد ہوں۔ مہمان خصوصی خالد خان سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبر پختونخوا نے ہائی جمپ کے مقابلے میں حادثاتی طور پر زخمی ہونے والے طالب علم کی داد رسی اور طالب علم سے خود ملاقات کرنے کا بھی اعلان کیا۔ بعدازاں سیکرٹری ایجوکیشن نے پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں میں ٹرافیاں، میڈلز اور سرٹیفیکیٹس تقسیم کئے۔ واضح رہے کہ سپورٹس کے مقابلے 24 دسمبر 2025 سے پشاور کے مختلف کورٹس اور گرانڈز پر منعقد ہوئے۔