غنی الرحمن
کھیل کسی بھی معاشرے میں صرف جسمانی سرگرمی کا نام نہیں بلکہ نظم، ضبط، اعتماد اور قومی شناخت کا استعارہ ہوتے ہیں۔ تائیکوانڈو جیسا عالمی سطح پر تسلیم شدہ کوریئن مارشل آرٹ، جو اولمپکس کا باقاعدہ حصہ ہے، آج خیبرپختونخوا میں بے توجہی، انتظامی خلا اور ادارہ جاتی غفلت کے باعث شدید بحران کا شکار ہے۔ ایک وقت تھا جب اس کھیل نے صوبے کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر باصلاحیت کھلاڑی دیے، مگر آج یہی کھلاڑی اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید بے یقینی اور اضطراب میں مبتلا ہیں۔
خیبرپختونخوا میں دنیا بھر بشمول پاکستان کا مقبول کوریئن مارشل کھیل تائیکوانڈو تیزی سے اپنی مقبولیت کھوتا جا رہا ہے۔ صوبے بھر میں اس کھیل سے وابستہ کھلاڑی نہ صرف مایوسی بلکہ شدید بے چینی کا شکار ہیں، کیونکہ ان کے پاس نہ کوئی مضبوط پلیٹ فارم ہے اور نہ ہی کوئی ایسا ادارہ جو ان کی سرپرستی کر سکے۔
یہ امر کسی حد تک حوصلہ افزا ضرور ہے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی)، صوبائی اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ اور خیبرپختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن تائیکوانڈو کو دوبارہ منظم کرنے، اس کے فروغ اور کھویا ہوا مقام دلانے کے دعوے کر رہے ہیں، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں سے مختلف نظر آتے ہیں۔
پشاور اور خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں تائیکوانڈو کے متعدد کلب اور باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں، تاہم ان کی سرپرستی نہ ہونے کے برابر ہے۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب پاکستان اسپورٹس بورڈ نے انتخابات نہ ہونے کے باعث پاکستان تائیکوانڈو فیڈریشن کو غیر فعال قرار دے دیا۔ یہی بحران صوبائی سطح پر بھی دیکھنے میں آیا، جہاں خیبرپختونخوا تائیکوانڈو ایسوسی ایشن بھی عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔
ایسی صورت میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اب کھلاڑی کہاں جائیں؟ جن نوجوانوں نے برسوں محنت کی، قومی و صوبائی مقابلوں کا خواب دیکھا، وہ آج بغیر کسی نمائندہ ادارے کے کھڑے ہیں۔ نہ ٹرائلز ہو رہے ہیں، نہ چیمپئن شپس، نہ کوچز کی سرکاری سرپرستی اور نہ ہی کوئی ایسا فورم جہاں کھلاڑی اپنی آواز پہنچا سکیں۔ المیہ یہ بھی ہے کہ وہ شخصیات اور گروہ جو اس کھیل کو خیبرپختونخوا میں متعارف کرانے اور اس کے فروغ کے دعوے کرتے رہے، آج عملی میدان میں نظر نہیں آتے۔ دعوے اپنی جگہ، مگر عمل کی کمی نے تائیکوانڈو کو ایک اور نظرانداز شدہ کھیل بنا دیا ہے۔
اگر فوری طور پر شفاف انتخابات، فعال تنظیمی ڈھانچہ، صوبائی تائیکوانڈو ایسوسی ایشن کی بحالی اور کھلاڑیوں کے لیے واضح پالیسی نہ بنائی گئی تو خدشہ ہے کہ تائیکوانڈو بھی خیبرپختونخوا میں ان کھیلوں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جو صرف فائلوں اور ماضی کی یادوں تک محدود ہو کر رہ گئے۔ یہ وقت محض بیانات کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ بصورت دیگر تاریخ یہی سوال دہراتی رہے گی، جب کھلاڑی تیار تھے، تو سر پرستی کرنے والے کہاں تھے؟