ہمایون خان
پشاور: سال 2025 پاکستان ویمنز کرکٹ کی تاریخ میں ایک یادگار سال ثابت ہوا ہے، جہاں قومی ٹیم نے نہ صرف عالمی مقابلوں میں جگہ بنائی بلکہ انفرادی سطح پر بھی پاکستانی کھلاڑیوں نے دنیا بھر میں اپنی دھاک بٹھائی۔
پاکستان کی میزبانی میں لاہور میں منعقدہ ویمنز ورلڈ کپ کوالیفائر میں قومی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان نے ٹورنامنٹ کے تمام میچز جیت کر ناقابلِ شکست رہتے ہوئے آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ 2025 کے لیے براہِ راست کوالیفائی کیا۔ ہوم گراؤنڈ پر ملنے والی اس کامیابی نے ٹیم کے مورال کو بلند کر دیا، جس کے بعد ٹیم نے ورلڈ کپ کے اہم مقابلوں میں شرکت کی۔
اسی سال کی سب سے بڑی انفرادی کامیابی سپنر سعدیہ اقبال کے نام رہی۔ سعدیہ اقبال نے اپنی جادوئی بولنگ کی بدولت آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
بڑے مقابلوں کے ساتھ ساتھ جونیئر لیول پر بھی خوشخبری موصول ہوئی۔ پاکستان ویمنز انڈر 19 ٹیم نے بنگلہ دیش کا کامیاب دورہ کیا اور وہاں کھیلی گئی سیریز میں فتح حاصل کر کے مستقبل کے روشن ستارے ہونے کا ثبوت دیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ویمنز کرکٹ کی بنیاد مضبوط کرنے کے لیے سال بھر ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کا انعقاد کیا۔ اسی سلسلے میں اب کراچی میں 36 باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل نیشنل ویمنز کیمپ جاری ہے۔
کیمپ میں کھلاڑیوں کی فٹنس اور فیلڈنگ کے معیار کو بہتر بنانے پر خصوصی کام کیا جا رہا ہے۔ نیشنل ٹیم کے کوچ وہاب ریاض کی نگرانی میں کھلاڑیوں کو جدید تقاضوں کے مطابق تربیت دی جا رہی ہے۔ وہاب ریاض کا کہنا ہے کہ “ہمارا ہدف کھلاڑیوں کو جسمانی طور پر مضبوط بنانا اور فیلڈنگ میں چستی لانا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر ٹاپ ٹیموں کا مقابلہ کر سکیں۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025 میں ہونے والی یہ پیشرفت پاکستان میں خواتین کی کرکٹ کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔