رپورٹ: غنی الرحمٰن
پشاور: کرکٹ اپنے اندر ایک مکمل فلسفہ رکھتی ہے، یہ کھیل محض گیند اور بیٹ کے گرد گھومنے والی سرگرمی نہیں بلکہ انصاف، محنت، لگن اور میرٹ کے اصولوں پر قائم ایک مکمل نظام ہے۔ جب اس نظام میں دراڑیں پڑتی ہیں تو صرف ایک ٹیم نہیں ہارتی بلکہ پورا علاقہ، پوری نسل اور وہ سب خواب ٹوٹتے ہیں جو نوجوان کھلاڑی برسوں کی محنت کے ساتھ بُن رہے ہوتے ہیں۔ پشاور کا خطہ ہمیشہ سے باصلاحیت کرکٹرز کا گڑھ رہا ہے، لیکن افسوس کہ یہی خطہ آج اس ناانصافی کا شکار ہے جس نے اس کی کرکٹ کی بنیادوں کو کمزور کرنا شروع کر دیا ہے۔
پشاور ریجن میں کرکٹ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اپنے شہر کے لڑکے، جو دن رات نیٹ پریکٹس، فٹنس ٹریننگ اور سخت محنت میں مصروف رہتے ہیں، جب سلیکشن کے مرحلے تک پہنچتے ہیں تو ان کی محنت کا صلہ کسی اور کے نام لکھ دیا جاتا ہے۔ ٹیموں میں جگہیں اُن مہمان کھلاڑیوں کو دے دی جاتی ہیں جو دوسرے علاقوں سے آ کر پشاور ریجن کی نمائندگی کا حق چھین لیتے ہیں۔ یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے، مگر اب یہ شکایت ایک حقیقی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
کرکٹ حلقوں میں اس پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ کوچز، سابق کرکٹرز اور کھیل سے وابستہ لوگ کھل کر کہہ رہے ہیں کہ پشاور کے باصلاحیت اور مستقل مزاج کھلاڑیوں کو نظرانداز کر کے دوسرے علاقوں کے کھلاڑیوں کو کھلانا نہ صرف غلط ہے بلکہ کھلی حق تلفی ہے۔ یہ عمل نہ صرف نوجوان کرکٹرز کے حوصلے پست کرتا ہے بلکہ پشاور کی کرکٹ کو اس مقام سے دور لے جا رہا ہے جس کا یہ خطہ اصل میں حقدار ہے۔
پشاور کے کھلاڑیوں کی سب سے بڑی شکایت یہی ہے کہ وہ سال بھر ٹریننگ کرتے ہیں، ٹورنامنٹس کھیلتے ہیں، کارکردگی دکھاتے ہیں، مگر سلیکشن کے دن جیسے ہی قریب آتے ہیں، اچانک نئے چہرے سامنے آ جاتے ہیں۔ ایسے کھلاڑی جو نہ یہاں کے ماحول سے واقف ہوتے ہیں نہ پشاور ریجن کے نظام کا حصہ ہوتے ہیں، مگر ان کے لیے ٹیم کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مقامی کھلاڑی نہ صرف ٹیم سے باہر رہ جاتے ہیں بلکہ عملی طور پر کرکٹ کے مستقبل سے بھی مایوس ہو جاتے ہیں۔
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ جب پشاور کے پاس خود بے شمار ٹیلنٹ موجود ہے تو پھر دوسرے علاقوں سے کھلاڑی لانے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ کیا ریجن کا مقصد مقامی ٹیلنٹ کی پرورش ہے یا کسی اور کا فائدہ؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب آج تک کوئی ذمہ دار سنجیدگی سے دینے کو تیار نہیں۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو پشاور میں ٹیلنٹ کی نرسری کمزور پڑ جائے گی، کھلاڑی یا تو کرکٹ چھوڑ دیں گے یا پھر اپنے علاقے سے بددل ہو کر کہیں اور مواقع تلاش کریں گے۔ ایسے حالات میں نہ صرف کرکٹ کا نقصان ہوگا بلکہ علاقے کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ دنیا بھر میں علاقائی ٹیموں کی مضبوطی کی بنیادپراپنے کھلاڑی ہوتے ہیں۔ جب انہی کھلاڑیوں کو پیچھے دھکیلا جائے تو ٹیم صرف ایک نمائشی یونٹ رہ جاتی ہے، کوئی حقیقی شناخت نہیں۔ اس مسئلے کا ایک سنجیدہ اور سبق آموز پہلو بھی ہے۔ کرکٹ میں میرٹ کو قربان کرنے کا نقصان ہمیشہ دیر سے سامنے آتا ہے، مگر جب سامنے آتا ہے تو پورے سسٹم کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ پشاور ریجن کو ابھی بھی وقت ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے، سلیکشن کا نظام شفاف بنائے، مقامی ٹیلنٹ پر اعتماد کرے اور ان کھلاڑیوں کو میدان فراہم کرے جو حقیقی طور پر اس کے وارث ہیں۔ آخر میں یہی کہنا مناسب ہے کہ علاقے کی پہچان ہمیشہ اپنے کھلاڑیوں سے ہوتی ہے، باہر سے آئے ہوئے نام کبھی بھی اس شناخت کی جگہ نہیں لے سکتے۔ اگر پشاور نے اپنی کرکٹ کو بچانا ہے تو اسے اپنے لڑکوں کو اپنی نرسری کو اپنے ٹیلنٹ کو آگے لانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو کرکٹ کی روح کے مطابق ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو آنے والی نسلوں کیلئے امید کا چراغ بن سکتا ہے۔