پشاور: نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن کے تحت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹج (لوک ورثہ) کے زیراہتمام 10روزہ ثقافتی (لوک میلہ) میں خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کی جانب سے سجائے گئے خیبرپختونخوا پویلین میں سیاحوں کا رش، روایتی رباب موسیقی اور کیلاشی رقص نے میلے میں شامل شائقین کو محظوظ کر کے میلہ لوٹ لیا۔ ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی حبیب اللہ خان نے میلے میں کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کی جانب سے سجائے گئے پویلین اور سٹالز کا تفصیلی دورہ کیا۔

ڈی جی ٹورازم اتھارٹی حبیب اللہ عارف کا کہنا تھا کہ لوک میلہ میں آئے ہنرمند صوبے کی ثقافت اور دستکاری اشیا کی بہترین انداز میں نمائش کررہے ہیں۔ میلے میں پاکستان بھر سے آئے ہنرمندوں کو آپس میں ملنے اور ہنر دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ خیبرپختونخوا پویلین میں ہنرمند خواتین کی حوصلہ افزائی کے لیے کثیر تعداد میں سٹالز فراہم کیے گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا پویلین میں ہنرمندوں کیلئے 30 سے زائد دستکاری و ثقافتی اشیا کے اسٹالزجن میں موزیک آرٹ، میزاری کا کام، سلام پورشال، مغل آرٹ، لیکر آرٹ، دستکاری اشیا، چترالی اشیا، محکمہ جیل خانہ جات خیبرپختونخوا میں قیدیوں کے ہاتھوں سے بنی اشیا کا سٹال، خصوصی افراد کے ہاتھوں سے بنی اشیا کا سٹال، لکڑی آرٹ، ریشم کا کام، روایتی ہاتھوں سے بنے بیگز، چارسدہ چپل، کنڈی کام،لیکر آرٹ، جناح کیپ، ہینڈی کرافٹ، مٹی کے برتن کیساتھ ساتھ صوبے کے مشہور روایتی کھانوں کے سٹالز بھی سیاحوں کی توجو کا مرکز رہیں۔

ان روایتی کھانوں میں پینڈا صوبت، چپلی کباب، پلا، تکہ بوٹی، چکن بوٹی اور دیگر شامل ہیں۔

لوک میلہ میں شرکت کا بنیادی مقصد صوبے کا سافٹ امیج پیش کرنا، بھرپور ثقافتی ورثے سے دنیا کو آگاہ کرنا اور مقامی فنکاروں اور ہنرمندوں کی حمایت کرنا ہے۔لوک میلہ اپنے آخری ایام میں ہے ۔

اور خیبرپختونخوا پویلین نے مسلسل تیسری بار بہترین پویلین کا ایوارڈ جیتنے کی روایت کو برقرار رکھنے کی امید پیدا کر دی ہے۔
