شکیل الرحمان
فیصل آباد: سترہ سال بعد اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں پاکستان کو ایک شرمناک ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ جنوبی افریقہ نے یکطرفہ مقابلے کے بعد آٹھ وکٹ سے شکست دیکر سیریز 1-1سے برابر کردی۔ اور شاید پاکستان کا پاکستان میں جنوبی افریقہ سے پہلی بار سیریز جیتنے کا خواب ادھورا ہی رہ جائے گا۔پاکستان کی ٹیم کو دیکھتے ہوئے تیسرے میچ میں فتح حاصل کرنا ممکن نظر نہیں آرہا۔میں نے پہلے میچ میں جیت کے بعد یہی کہا تھا کہ (جیت تمام عیبوں پر پردہ ڈال دے دیتی ہے ۔اس میچ پر بھی اگر نظر دوڑائی جائے تو جنوبی افریقہ پاکستان سے اچھا کھیلی)۔ پاکستانی ٹیم کا خاصہ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ مشکل میچ کو آسان اور آسان میچ کو روایتی انداز میں مشکل بنادیتی ہے۔ دوسرے میچ میں ٹاپ رڈر لڑ کھڑا گئی۔ اور 22رنز پر فخر،بابر اور رضوان پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد شائقین بھی امید کا ہاتھ چھوڑ دیتے ہے۔ لیکن مڈل آرڈر نے تحمل مزاجی دکھائی اور سکور کو 269رنز تک پہنچا دیا۔ جنوبی افریقہ کی اننگز میں ہماری بولنگ غیر معیاری نظر آئی اور وکٹ کے دو نوں سائیڈ پر شارٹ گیندیں کی جسکا پروٹیز بیٹرز نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور گراونڈ کے چاروں اطراف شاندار سٹروک کھیلے۔ اور چھ رنز سے زائد کے اوسط سے پہلی وکٹ کے لئے 81رنز کا اضافہ کرکے ٹیم کے لئے فتح کی راہ ہموار کی۔پاکستانی بولنگ میں محمد وسیم کی بولنگ شاندار رہی۔لیکن پاکستانی فیلڈنگ ہمیشہ کی طرح بکواس رہی تین سے چار کیچ گرائے گئے۔خاص کر ڈی کاک کا کیچ نقصاندہ ثابت ہوا اور انہوں نے ناقابل تسخیر سنچری سکور کرکے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کردیا۔

جنوبی افریقہ نے بہترین فنش کیا جبکہ ابھی دس اوورز باقی تھے۔مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ عاقب جاوید ، اسد شفیق ، اظہر علی اور دیگر آفیشلز کس بات کی تنخواہ لے رہے ہے اس لئے کہ نہ آپ کی بیٹنگ نہ بولنگ اور سونے پہ سہاگہ فیلڈنگ کا یہ حال ہے تو پھر یہ آفیشلز کی فوج کو ختم کر دیا جائے۔پاکستان کی سیلیکشن ہی غلط ہوئی ہے ایکروزہ میچ کے لئے آپ کو پراپر بیٹرز کی ضرورت ہے نہ کہ ہٹرز کی۔ٹی 20کے کھلاڑیوں کو ایک روزہ میچوں میں بھی سیلیکٹ کیا جاتا ہے۔ صائم ایوب، فخر، فہیم اشرف، حسین طلعت ایک روزہ میچ کے کھلاڑی نہیں ہے۔ امام الحق، عبداللہ شفیق اور سعود شکیل کو ٹیم میں ہونا چاہیے تھا۔ ان کے علاوہ آپ کے پاس بیک اپ میں عباس آفریدی ، خرم شہزاد، عامر جمال ، شاہنواز دھانی ، دانیال ، سفیان مقیم ، فیصل اکرم ، طبیب طاہر ، عرفان نیازی ، عاکف جاوید ، کامران غلام موجود ہیں ۔کوئنٹن ڈی کاک نے اپنی بین الاقوامی واپسی کی پہلی سنچری، اور مجموعی طور پر 22 ویں سنچری بنائی، جنوبی افریقہ نے پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز میں برابر کی۔ ٹونی ڈی زورزی اور ڈی کاک نے دوسری وکٹ کے لیے 153 رنز کی شراکت داری قائم کی

اس سے قبل ڈی کوک اور لوآن ڈری پریٹوریئس کی 81 رنز کی ابتدائی شراکت قائم ہوئی۔ انہوں نے صرف دو وکٹیں گنوائیں ڈی کاک نے میتھیو بریٹزکے ساتھ59 گیندیں قبل ہی 270رنز کا تعاقب مکمل کیا۔ رضوان 4 رنز بناکر پویلین لوٹے۔پاکستان نے پہلے بیٹنگ لیکن تین وکٹیں گرنے کے بعد سلمان علی آغا اور صائم ایوب نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کی اور شراکت داری قائم کرتے ہوئے دونوں بیٹرز نے نصف سنچریاں اسکور کیں۔تاہم پھر صائم 53 اور سلمان علی آغا 69 رنز بناکر آوٹ ہوگئے جبکہ حسین طلعت 10 کے اسکور پر ٹیم کا ساتھ چھوڑ گئے۔آخری اوورز میں محمد نواز اور فہیم اشرف نے ذمہ داری سے بیٹنگ کی۔نواز 59 اور فہیم اشرف 28 رنز بناکر آوٹ ہوئے۔پاکستان نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 269 رنز اسکور کیے۔جنوبی افریقا نے پاکستان کا 270 رنز کا ہدف باآسانی 41 ویں اوور میں حاصل کرتے ہوئے 8 وکٹوں سے کامیابی حاصل کرلی۔جنوبی افریقہ کی جانب سے کوئنٹن ڈی کوک 123 رنز بناکر ناٹ آوٹ رہے جبکہ ڈی زورزی نے 76 اور پری ٹوریس نے 46 رنز بنائے

اس کے علاوہ میتھو بریٹزکے 17 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔پاکستان کی جانب سے محمد وسیم اور فہیم اشرف نے ایک ایک وکٹ لی۔دوسرے ون ڈے میں جنوبی افریقا کی کامیابی کے بعد 3 میچز پر مشتمل سیریز 1-1 سے برابر ہوگئی ہے۔واضح رہے کہ سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقا کو شکست دی تھی۔سیریز کا تیسرا اور فیصلہ کن میچ ہفتہ 8 نومبر کو اقبال اسٹیڈیم میں ہی کھیلا جائے گا۔