شکیل الرحمان
پشاور: سترہ سال بعد اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں پاکستان نے ایک دلچسپ مقابلے کے بعد آخری اوور میں جنوبی افریقہ کو دو وکٹ سے ہرایا۔ اور تین میچوں کی سیریز میں 0-1کی برتری حاصل کرلی۔فیصل آباد میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی تقریبا سترہ سال بعد ہوئی۔لیکن جیت تمام عیبوں پر پردہ ڈال دے دیتی ہے ۔اس میچ پر بھی اگر نظر دوڑائی جائے تو جنوبی افریقہ پاکستان سے اچھا کھیلی ۔پاکستان ایک آسان میچ کو مشکل بنا گیا جوکہ پاکستانی ٹیم کا خاصہ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ مشکل میچ کو آسان اور آسان میچ کو روایتی انداز میں مشکل بنادیتی ہے۔مڈل آرڈر بیٹنگ ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر ناکام رہی اورصرف بیس رنز پر ہماری مڈل آرڈر کی چار وکٹیں آوٹ ہوگئی۔اور پاکستانی ٹیم جیتا ہوا میچ ہارنے لگی تھی۔اور ایک ڈرامائی دو اوورز نے پاکستان کو تقریبا پٹری سے اتار دیا، پاکستان کو آخری اوور میں دو وکٹوں سے جیتنے کے لیے محمد نواز کے چھکے کی ضرورت تھی جو بالآخر49ویں اوور کی آخری گیند پرمحمدنواز چھکا لگاکر ٹیم کو واپس پٹری پر لے آئے۔تمام ماہرین کرکٹ پاکستان کی غیر متوقع کارکردگی سے حیران رہ جاتے ہے۔ محمد رضوان کی کپتانی میں پاکستان نے 22سال بعد آسٹریلیا کو ایک روزہ سیریز میں شکست دی تھی۔ اس کے بعد جنوبی افریقہ کو اس کے گھر میں کلین سویپ دینے والے کپتان کو انعام میں کپتانی سے محروم کردیا تھا۔محمد رضوان کی کپتان کی حیثیت میں بیٹنگ اوسط 42رہی جو بہترین کپتانی کے ساتھ شاندار تھی محمد رضوان نے بیس ون ڈے میں کپتانی کی گیارہ ہارے 9جیتے اوسط 45 کی رہی۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں شاہین آفریدی کو کپتانی سے ہٹانا پھر بابر اعظم کو سایڈ لاین کرنا یہ ہمارے پاکستان ہی میں ممکن ہے ایک بار پھر شاہین آفریدی کو کپتانی دی گئی اور انکی کپتانی میں پہلے ہی میچ میں پاکستان فتح یاب رہا۔پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد جنوبی افریقہ کا 264 رنز کا ہدف 2 گیندیں قبل حاصل کیا، پاکستان کی جانب سے سلمان علی آغا نے 62، محمد رضوان نے 55 رنز بنائے۔دونوں کے درمیان چوتھی وکٹ کے لئے 96رنز کا اضافہ ہوا جو ٹیم کی فتح میں ہم کردار تھا۔سلمان آغا کی اننگز میں پانچ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا جبکہ رضوان نے اپنی اننگز میں چھ چوکے لگائے۔

فخر زمان نے 45 رنز باورصائم ایوب 39 رنز بنا ئے، محمد نواز 9 اور بابر اعظم صرف 7 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ گئے۔جنوبی افریقہ کی جانب سے لنگی نگیڈی، ڈونووین فریرا اور کوربن بوش نے 2،2 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا، جارج لنڈے اور بجورن فورچوئن نے ایک،ایک وکٹ حاصل کی۔پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم 49.1 اوور میں 263 رنز پر آل آوٹ ہوئی، پروٹیز کی جانب سے کوئنٹن ڈی کوک 63 اور لوان ڈرے پریٹوریئس 57 رنز بناکر نمایاں رہے۔اس سے قبل شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر مہمان ٹیم کو بلے بازی کی دعوت تو کوئنٹن ڈی کوک اور وان ڈرے پریٹوریئس نے ٹیم کو 98 رنز کا عمدہ آغاز فراہم کیا، پریٹوریئس 57 رنز بناکر صائم ایوب کا شکار بنے۔

ڈی کوک نے ٹونی ڈی زورزی کے ساتھ مل کر 43 رنز کی شراکت قائم کی اور اس دوران اپنی نصف سنچری بھی مکمل کی، وہ 63 رنز بنانے کے بعد نسیم شاہ کی گیند پر بولڈ ہوگئے جبکہ زورزی 18 رنز بناکر صائم ایوب کی بالنگ پر انہی کو کیچ دے بیٹھے۔پروٹیز کپتان میتھیو بریٹزکے نے 42 رنز کی اننگز کھیلی، ڈیبیو کرنے والے سینیتمبا قیشیلے 22 رنز پر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے، ڈونووین فریرا 3، جارج لنڈے 2، رنز بنانے کے بعد آوٹ ہوئے جبکہ کوربن بوش نے 41 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔پاکستان کی جانب سے ابرار احمد اور نسیم شاہ نے 3،3 صائم ایوب 2 جب کہ محمد نواز اور شاہین آفریدی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے قیشیلے نے اپنا پہلا ایک روزہ میچ کھیلا، جو ڈیوالڈ بریوس کی انجری کے باعث ٹیم میں شامل کیے گئے تھے اس کے علاوہ اوپنر لوان-ڈرے پریٹوریئس نے بھی ڈیبیو کیا۔واضح رہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ سیریز ایک ایک سے برابر رہی تھی جبکہ ٹی 20 سیریز میں پاکستان نے 1-2 سے کامیابی حاصل کی تھی۔