کراچی: 35ویں قومی کھیل 2025 دو دہائیوں بعد چھ تا 13 دسمبر کراچی میں ہوں گےکراچی میں کل چوبیس مقامات کو مقابلوں کے لیے منتخب کیا گیا۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہدایت کی ہے کہ قومی کھیلوں کے انعقاد کو شایانِ شان اور یادگار بنایا جائے کیونکہ کراچی تقریباً دو دہائیوں بعد ملک کے سب سے بڑے کثیر کھیلوں کے مقابلے کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو ایک طویل عرصے بعد قومی کھیلوں کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا ہے اس لیے انتظامات شہر کے کھیلوں اور ثقافتی مرکز کی حیثیت کے مطابق ہونے چاہئیں۔
اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ، صوبائی وزیر کھیل محمد بخش خان مہر (ویڈیو لنک کے ذریعے)، وزیر منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو، وزیر ثقافت ذوالفقار شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، انسپکٹر جنرل پولیس غلام نبی میمن، وزیرِ اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری کھیل منور میسَر، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
35ویں قومی کھیل 2025 چھ سے تیرہ دسمبر تک کراچی میں منعقد ہوں گے۔ تقریباً دو دہائیوں بعد ملک کا سب سے بڑا کھیلوں کا ایونٹ دوبارہ شہرِ قائد میں لوٹ رہا ہے۔ کراچی نے پہلی بار 1948 میں قومی کھیلوں کی میزبانی کی تھی، اُسی سال جب پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن قائم ہوئی تھی۔ اس کے بعد قومی کھیل لاہور میں دس بار، کراچی میں آٹھ بار، پشاور میں سات بار، ڈھاکہ اور کوئٹہ میں چار چار بار، جبکہ ساہیوال اور فیصل آباد میں ایک ایک بار منعقد ہوئے۔
اس سال کا ایونٹ تاریخ کا سب سے بڑا قرار دیا جا رہا ہے جس میں چاروں صوبوں، جموں و کشمیر، اسلام آباد، تین سروسز ٹیموں اور چار محکموں کے کھلاڑی حصہ لیں گے۔ مجموعی طور پر چھ ہزار کھلاڑی، دو ہزار آٹھ سو ٹیم عہدیدار اور گیارہ سو ٹیکنیکل آفیشلز شریک ہوں گے جس سے شرکاء کی کل تعداد تقریباً دس ہزار تک پہنچ جائے گی۔
کھیلوں میں مردوں کے لیے بتیس اور خواتین کے لیے انتیس مقابلے شامل ہوں گے جن میں پچیس اولمپک اور سات غیر اولمپک کھیل شامل ہیں۔ مردوں کے مقابلوں میں تیر اندازی، ایتھلیٹکس، بیڈمنٹن، بیس بال، باسکٹ بال، باکسنگ، فٹ بال، جمناسٹکس، ہاکی، جوڈو، کراٹے، رگبی، تیراکی اور اسکواش شامل ہیں جبکہ خواتین کے مقابلوں میں فینسنگ، ٹیبل ٹینس، والی بال، تائی کوانڈو اور ویٹ لفٹنگ سمیت دیگر کھیل شامل ہوں گے۔
کراچی میں کل چوبیس مقامات کو مقابلوں کے لیے منتخب کیا گیا ہے جن میں سندھ اسپورٹس بورڈ کمپلیکس ناظم آباد، این ای ڈی یونیورسٹی، کے پی ٹی اسپورٹس کمپلیکس، کے ایم سی فٹ بال اسٹیڈیم، ڈیفنس اتھارٹی کنٹری اینڈ گالف کلب، حبیب پبلک اسکول، نیشنل اسپورٹس ٹریننگ اینڈ کوچنگ سینٹر، اور کراچی بوٹ کلب سمیت دیگر مقامات شامل ہیں۔
افتتاحی اور اختتامی تقریبات نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد ہوں گی جن میں افتتاح چھ دسمبر اور اختتام تیرہ دسمبر کو ہوگا۔ محکمہ کھیل نے کھیلوں کے لیے ’’انڈس کوئین‘‘ کو سرکاری مَیسکوٹ کے طور پر تجویز کیا ہے جو سندھ کی ثقافتی و تاریخی شناخت اور دریائے سندھ کی وحدت کی علامت ہے۔
شہر میں جوش و جذبہ پیدا کرنے اور اسے خوبصورت بنانے کے تین تلوار، نمائش چورنگی، میٹروپول، ایکسپو سینٹر، فریئر ہال، نیشنل اسٹیڈیم چوک اور سی ویو سمیت بڑے مقامات اور چوراہوں کو روشنیوں، بڑی اسکرینوں، مَیسکوٹ اور کھیلوں کی تھیم والے ہورڈنگز سے سجا دیا جائے گا۔
وزیرِ اعلیٰ نے محکمہ کھیل کو ہدایت دی کہ 14 نومبر کو “ٹارچ ریلی” کا اہتمام کیا جائے جو مزارِ قائد سے شروع ہو کر صوبائی دفاتر اور جامعات سے گزرتی ہوئی وفاقی دارالحکومت تک پہنچے گی اور علامتی طور پر خیبر پختونخوا تک جاری رہے گی۔
وزیرِ اعلیٰ نے تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی رابطہ کمیٹی قائم کی جس میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر تعلیم سید سردار شاہ، وزیر کھیل محمد بخش خان مہر اور کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب شامل ہیں۔ یہ کمیٹی ہر ہفتے تیاریوں کا جائزہ لے گی۔
شہر بھر میں تشہیری مہم بھی شروع کی جائے گی جس کے تحت مختلف چوراہوں کو قومی کھیلوں کی تصاویر، ویڈیوز اور تھیمز سے سجایا جائے گا۔ اس کے علاوہ، کئی معروف شخصیات کو برانڈ ایمبیسڈر بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
افتتاحی تقریب کے ثقافتی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ تقریب کا موضوع “دریائے سندھ کے ساتھ کھیلوں کا ارتقاء — زندگی کا دریا” ہوگا، جو سندھ کی قدیم تہذیب اور روحانی ورثے کا جشن منائے گا۔ اس تقریب میں وادیٔ سندھ کی تہذیب کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا جس میں صوفیانہ موسیقی، کلاسیکی رقص، بصری پروجیکشنز اور طلبہ کی علاقائی پیشکشیں شامل ہوں گی۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ دریائے سندھ صرف بہتا نہیں، یہ جوڑتا ہے۔ پہاڑوں سے سمندر تک یہ ہماری روایات، کہانیاں اور روح اپنے ساتھ لاتا ہے۔ جب یہ سندھ پہنچتا ہے تو توانائی بن جاتا ہے، متحرک اور زندہ۔ کراچی، جو سندھ کا دل ہے، اس سب کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔
مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی ہوں گے جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اختتامی تقریب میں شرکت کریں گے جو اس ایونٹ کی قومی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
کھیل، ثقافت اور اتحاد کے حسین امتزاج کے ساتھ 35 ویں قومی کھیل 2025 کراچی کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کریں گے جہاں شہر کی توانائی، تنوع اور دریائے سندھ کا ابدی بہاؤ پاکستان کے کھیلوں کے جذبے کی ایک شاندار تقریب میں یکجا ہوگا۔