
تحریر ۔ فرحان اللہ خلیل
khalilfarhan87@gmail.com
پشاور کی فضاں میں جب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے طیارے نے قدم رکھا تو یہ محض ایک فوجی سربراہ کا دورہ نہیں تھا بلکہ ایک بیانیے کی تجدید، ایک اعتماد کی واپسی اور ایک نئے عزم کا اعلان تھا۔قبائلی روایات، غیرت، قربانی اور حب الوطنی کے جذبات سے لبریز یہ سرزمین ہمیشہ پاکستان کے دفاع کی پہلی دیوار رہی ہے۔آرمی چیف کا یہ دورہ اسی تاریخی اور جذباتی رشتے کی یاد دہانی تھا جو قبائلی علاقوں کے عوام اور پاکستانی ریاست کے درمیان صدیوں سے قائم ہے۔پشاور کور ہیڈکوارٹر میں آرمی چیف سید عاصم منیر کی قبائلی مشران، عمائدین اور مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندوں سے گفتگو کو ایک رسمی ملاقات نہیں کہا جا سکتا۔یہ ریاست اور عوام کے درمیان مکالمے کی بحالی تھی۔آرمی چیف نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان کی سلامتی ناقابلِ مذاکرات ہے اور افغان سرزمین سے کسی قسم کی دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔یہ بیان اس وقت دیا گیا جب خطے میں ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے سائے منڈلا رہے ہیں اور سرحد پار سے ہونے والی کارروائیاں پاکستانی امن کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔تاہم آرمی چیف کے لہجے میں کوئی دھمکی نہیں تھی بلکہ اعتماد، توازن اور عزم کی جھلک تھی۔یہی وہ فرق ہے جو موجودہ عسکری قیادت کو نمایاں کرتا ہے۔پاکستان اب اپنے دفاع کو جذبات سے نہیں بلکہ عقل، حکمت اور ریاستی وقار کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔جرگے کے دوران کئی مشران نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اس ملک کے لیے اپنے بیٹے قربان کیے، اپنے گھر چھوڑے، اپنے بازار اجڑے مگر پاکستان پر آنچ نہیں آنے دی۔یہ جملہ محض دعوی نہیں تاریخ کی حقیقت ہے۔وزیرستان، باجوڑ، کرم اور مہمند کے قبائل نے 20 سال تک جس قربانی اور عزم کا مظاہرہ کیا وہ کسی فوجی یا شہری علاقے کی مثالوں سے بڑھ کر ہے۔آرمی چیف نے بھی اسی جذبے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ قوم قربانی دینا جانتی ہے مگر اپنی زمین پر دہشت گردی برداشت نہیں کرے گی۔یہ جملہ قبائلی عوام کے دل سے نکلی ہوئی ایک آہ کے جواب میں آیا ایک ایسا جواب جس نے رشتوں کی جڑیں مزید مضبوط کر دیں۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں پہلی بار نہایت شفاف انداز میں افغانستان کی موجودہ حکومت کو مخاطب کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن کسی بھی قیمت پر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔یہ وہ دو ٹوک پیغام تھا جو ایک طویل عرصے سے قومی سطح پر سننے کی ضرورت تھی۔افغانستان کے اندر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف پاکستان کا موقف اب صرف سفارتی بیان نہیں رہا بلکہ ایک ریاستی پالیسی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان نے اپنے ماضی کے ابہام کو ختم کر کے ایک نئی سمت اختیار کی ہے۔اب امن اور حفاظت کے بیچ کوئی فاصلہ باقی نہیں رہا۔پشاور ہمیشہ سے امن و جنگ دونوں کی کہانی رہا ہے۔یہاں کے بازار، گلیاں اور گڑھی قلعے اس بات کے گواہ ہیں کہ جب ملک کے دوسرے حصوں میں خاموشی تھی یہاں کے عوام دشمن کے سامنے سینہ سپر تھے۔آج جب آرمی چیف پشاور کے جوانوں اور عوام سے مخاطب ہوئے تو ان کے لہجے میں ایک ایسا فخر تھا جو صرف اس شہر کے لیے مخصوص ہے۔یہ فخر کسی طاقت کا نہیں بلکہ عوامی محبت کا تھا۔پشاور کے لوگوں نے جو قربانیاں دی ہیں ان کا اعتراف ریاستی سطح پر ہونا ضروری تھا اور یہ دورہ اسی تسلسل کی ایک مضبوط کڑی ہے۔ایک عرصے سے عوام اور ریاست کے درمیان فاصلہ بڑھتا محسوس ہو رہا تھا۔سیاسی انتشار، معاشی دبا اور غیر یقینی حالات نے لوگوں کے دلوں میں سوالات پیدا کیے۔مگر آرمی چیف کے پشاور دورے نے ایک بار پھر اعتماد کی چنگاری جلائی ہے۔یہ ملاقاتیں صرف تقریریں نہیں تھیں بلکہ ایک تعلقِ باہمی کی ازسرِ نو تشکیل تھیں۔جرگے کے شرکا نے آرمی چیف سے شکایات بھی کیں، تجاویز بھی دیں اور اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا اور آرمی چیف نے وہ سب سنا۔یہی وہ طرزِ قیادت ہے جو قومی اداروں کو عوام کے قریب لاتی ہے۔سوشل میڈیا پر آرمی چیف کے پشاور دورے کے بعد عوامی ردِعمل نہایت مثبت رہا۔ہیش ٹیگ #ArmyChiefInPeshawar اور #NationalUnity ٹرینڈ کرتے رہے۔لوگوں نے تحریروں اور ویڈیوز میں کہا کہ ہم نے پہلی بار کسی جرگے میں ریاستی وقار اور عوامی عزت کو ایک ساتھ دیکھا۔یہی وہ تاثر ہے جو اس دورے کی اصل کامیابی ہے ۔جب عوام محسوس کریں کہ ان کی بات سنی جا رہی ہے تو شکایات خود بخود ختم ہونے لگتی ہیں۔ریاستی اداروں کا عوام کے درمیان یہ براہِ راست رابطہ ایک نئے پاکستان کی علامت بن سکتا ہے۔پاکستانی فوج کے موجودہ سربراہ صرف ایک عسکری کمانڈر نہیں بلکہ ریاستی استحکام کے معمار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ان کے بیانات میں سختی کے ساتھ ساتھ شائستگی اور حکمت کے ساتھ ساتھ عزم بھی جھلکتا ہے۔ان کا یہ جملہ کہ پاکستان کے دشمن کبھی کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ یہ قوم ایک جسم کی مانند ہے دراصل ایک نفسیاتی حوصلہ ہے۔یہ وہ طرزِ گفتگو ہے جو عوامی شعور کو جگاتی ہے نفرت نہیں پھیلاتی۔یہی وہ تبدیلی ہے جس کی ضرورت ہمارے قومی مزاج میں تھی۔پاکستان کی سرحدی پٹی اب محض عسکری زون نہیں رہی بلکہ ترقی اور یکجہتی کی فرنٹ لائن بن چکی ہے۔آرمی چیف نے واضح کیا کہ قبائلی اضلاع کے لیے ترقیاتی منصوبے، روزگار کے مواقع اور تعلیمی سہولیات حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہیں۔یہ اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اب محض بندوق سے نہیں بلکہ کتاب، روزگار اور انصاف سے امن قائم کرنا چاہتی ہے۔یہ تبدیلی پاکستان کے مستقبل کی بنیاد ہے ایک ایسا پاکستان جہاں قبائل محافظ بھی ہیں اور ترقی کے علمبردار بھی۔اگر آرمی چیف کے پورے پشاور دورے کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر اپنے خون کے بدلے خاموشی نہیں۔یہ جملہ صرف ایک عسکری بیان نہیں بلکہ قوم کا اجتماعی عہد ہے ۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں دفاع، خارجہ پالیسی اور عوامی اعتماد تینوں ایک ہی سمت میں متفق دکھائی دیتے ہیں۔پشاور کے اس تاریخی دورے نے یہ ثابت کر دیا کہ قومیں بندوق سے نہیں، اعتماد، قربانی اور ایمان سے جیتی ہیں۔آرمی چیف نے قوم کو وہی پیغام دیا جو قائدِاعظم نے دیا تھا ۔ ایمان، اتحاد، تنظیم اور یہی وہ تین ستون ہیں جن پر پاکستان ایک بار پھر کھڑا ہو سکتا ہے۔پشاور کا یہ دن محض ایک خبر نہیں بلکہ تاریخ کا ایک روشن صفحہ ہے ۔ جہاں جرگے کی نشست میں قوم کا عزم، فوج کا وقار اور پاکستان کا مستقبل ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے دکھائی دیے۔یہی وہ منظر تھا جسے دیکھ کر کہا جا سکتا ہے پشاور نے ایک بار پھر پاکستان کو متحد کر دیا۔